شادی کارڈ کے بدلتے انداز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جہاں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف روایات میں تبدیلیاں آئی ہیں وہیں شادی بیاہ کے موقع پر چھپنے والے کارڈوں کے ڈیزائن اور انہیں بھیجنے کے مواقع بھی بدلے ہیں۔ پہلے کارڈ صرف شادی اور ولیمے کی تقریبات کے لیے چھپا کرتے تھے لیکن اب کئی برسوں سے اپنی اپنی روایات کے مطابق لوگ مایوں، بیٹھک، ڈھولک، مہندی، شادی اور ولیمے کا کارڈ بانٹتے ہیں۔ رسومات تو نہیں بدلیں مگر ان میں بلانے کا ڈھنگ ضرور بدلتا رہا۔ کراچی کے علاقے پاکستان چوک پر واقع لاتعداد شادی کارڈ پرنٹنگ پریس کے مالکان کا کہنا ہے اب تو بس انگلش سٹائل اور امپورٹڈ کاغذ پر چھپے کارڈز کی ڈیمانڈ آتی ہے اور سب کو کارڈ انگلش میں ہی چھپوانا ہوتے ہیں۔ سوک کارڈ کے محمد امین کا کہنا تھا کہ بیس برس میں ان کی دکان پر آنے والے گاہکوں کا رجحان بہت حد تک بدل چکا ہے۔ پہلے لوگ صرف سادے کاغذ پر سنہرے یا سلور قلم سے چھپائی کروایا کرتے تھے مگر اب تو جناب امپورٹڈ پیپر پر کام ہوتا ہے۔
پرِزم ڈزائنر ویڈنگ کارڈز کے ملک کا کہنا تھا کہ ہم نے مختلف ڈیزائن کے کارڈز کی البم بنا رکھی ہیں اور ڈیمانڈ کے مطابق جالی والے، امپورٹڈ پیپر والے، دلہا دلہن کی تصویر والے اور روایتی کارڈز کے ریٹ اور ڈیزائنز البموں میں لگا رکھے ہیں تاکہ گاہکوں کو ہر طرح کے کارڈ مہیا کیے جا سکیں۔ اسی دکان کے باہر ایک خاتون نے آج کل چھپنے والے کارڈز پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں امریکہ سے آئی ہوں کچھ نئے انداز کا کام چاہیے مگر یہاں لوگ بہت روایتی ہیں۔ ایک بات جو صاف ظاہر ہوئی وہ یہ تھی کہ ان کارڈز کے ڈیزائنوں میں مرد حضرات سے زیادہ خواتین سر کھپاتی ملیں۔ تقریباً تمام ہی پرنٹنگ پریس والوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کمپیوٹر گرافکس کے آ جانے سے نہ صرف وقت بچتا ہے بلکہ اب تو ذا سے پھول اور بوٹیاں ادھر ادھر کر کے ایک دن میں کئی طرح کے کارڈ بآسانی بنا لیے جاتے ہیں۔ اب بھی ڈولی اور دلہن کی تصویروں والے کارڈ پسند کیے جاتے ہیں مگر بقول کارڈ چھاپنے والوں کے ڈیفنس کے علاقے کا گاہک ہو یا لیاری کا سب کو کارڈ کا مضمون انگریزی میں ہی چاہیے ہوتا ہے۔ ایک اور جدید بات جو اب چھپنے والے شادی کارڈز میں دیکھی جا سکتی ہے وہ یہ کہ اب دلہا دلہن کی تصویروں والے کارڈز بھی بڑی ڈیمانڈ کے ساتھ چھاپے جا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||