پھوکاڑا بیچ: تفریح گاہ یا موت گھر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکران سے بدین تک بحرہ عرب کا سینکڑوں کلومیٹر طویل ساحل قدم قدم پر سلسلہ در سلسلہ نئے جلووں کا اظہار کرتا ہے۔ کھوڑباڑی سے کیٹی بندر تک خشک زمین سے لہریں اٹکھیلیاں کرتی ہیں، کیٹی بندر سے ابراہیم حیدری تک دنیا کی حسین ترین کریکس صاحبان ذوق کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ کراچی سے مکران تک طویل ساحل پر سمندر اور بلندوبالا پہاڑیوں کی سرگوشیاں ماحول میں پر پر اسراریت پیدا کر دیتی ہیں۔ انہی ساحلوں پر ایک نیا منظر گزشتہ دس سال سے کراچی کے متمول مکینوں کو مقناطیس کی طرح اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ جی ہاں یہ پھوکاڑا بیچ ہے۔ کراچی میں جون اور جولائی کی گرمیوں کے ستائے ہوئے لوگ جب پھوکاڑا بیچ پہنچتے ہیں تو عجب نظارا ہوتا ہے۔ جب کراچی کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے آگے بڑھ چکا ہوتا ہے پھوکاڑا کی پہاڑیوں تیز بارش میں بھیگ رہی ہوتی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد بارش میں بھیگتی نظر آتی ہے۔ سمندر کی لہریں دیوانہ وار پہاڑی کی جانب بڑھتی ہیں اور بادلوں کی گرج دار آواز کے ساتھ پوری قوت سے پہاڑ سے ٹکراتی ہیں اور پہاڑی سے دگنی بلندی تک اوپر چلی جاتی ہیں اور پھر ہوا کے زور پر پہاڑی پر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بارش کی طرح برستی ہیں۔
گزشتہ دس سال سے یہاں پر بڑی تعداد میں لوگ آنے لگے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں یہاں پر روزانہ پانچ سو سے ایک ہزار افراد آتے ہیں اور بن بادل برسات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم اس سال سمندر کی لہروں سے مہم جوئی کرنے والے گیارہ افراد کی موت نے پھوکاڑا آنے والے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ پھوکاڑا کی دو پہاڑیوں کے درمیان ایک چوڑی کھائی ہے جو بڑی حد تک ہموار ہے اور لوگ بارش سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس کھائی میں ہموار زمین پر آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان آنے والی لہریں ہموار زمین تک بڑھتی چلی آتی ہیں اور اگر کوئی شخص یہاں پر ذرا سا بھی توازن کھو دے تو لہریں اسے اپنے ساتھ اسی طرح لے جاتی ہیں جس طرح نارتھ ناظم آباد میں رہنے والی ریحانہ کے گھر والوں کو لے گئی۔
ہلاک ہونے والوں میں ریحانہ کے بڑے بھائی 40 سالہ محمد سعید، 34 سالہ جہانگیر، دو بھتیجے 10، 10 سالہ بلال اور حیدر اور ایک پانچ سالہ بھتیجی رابعہ شامل تھے۔ اس پکنک کا ذکر کرتے ہوئے ریحانہ کی آواز رندھ جاتی ہے۔ ’یہ ایک منحوس صبح جب ہم سب پکنک منانے پھوکاڑا بیچ گئے تھے۔ میرے دونوں بڑے بھائی، ان کے دو بیٹے، ان کی بیویاں، بچے اور میری دو بہنیں ساحل پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مدد کے لیے نہ تو وہاں کوئی لائف گارڈ آیا اور نہ ہی پولیس اہلکار۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت کی لاپرواہی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب سمندر کی موجیں اتنی خطرناک ہیں تو عوام کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر حکومت کو ساحل بند کر دینا چاہیے اور حب چوکی، جہاں چنگی وصول کی جاتی ہے، وہاں سے ہی لوگوں کو واپس کر دینا چاہیے۔ ہم نے پھوکاڑا بیچ پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حفاظتی اقدام کے بارے میں گزانی تھانے کے ایس ایچ او محمد صدیق سے رابطہ کیا جو ڈیڑھ سال سے وہاں تعینات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پھوکاڑا بیچ پر آٹھ سے دس پولیس اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پھوکاڑا کے ساحل پر اس سال اب تک 4 واقعات میں گیارہ افراد ڈوب چکے ہیں۔ سب سے پہلا واقعہ 10 جون 2004 کو پیش آیا جس میں تین لڑکے عامر افتخار، محمد عارف اور پسران افتخار علی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ دوسرا واقعہ بھی اسی ماہ پیش آیا جس میں راشد احمد ہلاک ہو گئے۔ پھر 4 جولائی 2004 کو پانچ افراد کو ساحل کی لہریں بہا لے گئیں جن کی لاشیں 24 گھنٹے بعد ملیں۔ آخری واقعہ میں سولہ سالہ حبیبہ احمد 18 جولائی کو سمندر کی بھینٹ چڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ پھوکاڑا بیچ پر لوگوں کے ڈوبنے کے واقعات کا یہ پہلا سال ہے۔ اس سے قبل یہاں کبھی کوئی نہیں ڈوبا۔ یہاں زیادہ تر لوگ چونکہ ویک اینڈ منانے آتے ہیں اس لیے ہمارے جوان صرف انہی دنوں میں وہاں ہوتے ہیں۔ علاقے کے ایک رہائشی عبداللہ نے بتایا کے ہم نے ایک بار اس ہموار زمین پر بیٹھے تین نوجوانوں کو خود جاکر منع کیا تھا کہ وہ ان جان لیوا خونی لہروں سے دور ہو جائیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم لہروں کی طرف نہیں جا رہے ہیں بلکہ یہ لہریں سرگوشیاں کرتی ہوئی ہمیں اپنی طرف بلا رہی ہیں۔ چند لمحوں کے بعد تینوں لہروں میں بہتے ہوئے نظر آئے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ تینوں لہروں کی نذر ہو گئے۔ گڈانی کی اس خوبصورت تفریح گاہ اور اس کے قریب واقع موت کی گھاٹی کو دیکھ کر مجھے جھر جھری سی آگئی۔ پھوکاڑا کی تفریح گاہ خوب رو نوجوانوں کی بھینٹ لیتی ہے۔ یہاں پر ہموار ساحل کی کشش میں موت کا پیغام ہے یا کوئی فریب نظر؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||