کراچی میں موبائل چھیننے کی واردتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی بھر میں ویسے تو چوری اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں عام ہیں لیکن پچھلے کچھ عرصے سے موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ کافی بڑی تعداد میں جوان لڑکے ان وارداتوں میں مصروف ہیں۔ کراچی شہر کی کوئی گلی، محلہ، سڑک، چوراہا، شاپنگ مال غرض کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پچھلے دنوں بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے موبائل فون سے آپ کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں پر ایک فورم شروع کیا تھا۔ اس دوران ہمارے کراچی کے تین قارئین نے یہ مختصر آپ بیتیاں روانہ کیں۔ امجد خان کی کہانی میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا موبائل نکال کر اس کے حوالے کر دیا۔ پھر اس نے مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی دیتے ہوئے دوسری طرف دیکھنے کو کہا اور خود فرار ہوگیا۔ یہ سب کچھ دن دیہاڑے گیارہ بجے ہوا۔ اردگرد لوگ آ جا رہے تھے مگر ہر کسی کو اپنی جان پیاری تھی۔ جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا اس سے چند قدم کے فاصلے پر پولیس کی چوکی تھی اور ٹریفک کانسٹیبل بھی سامنے ہی کھڑا ہوا تھا۔ مزید یہ کہ تھوڑی دور رینجرز کی گاڑی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ مگر افسوس یہ سب کچھ بے کار تھا۔ میں ہفتے کی رات اپنے چار دوستوں کے ساتھ سی ویو کے ساحل سمندر گیا تاکہ ہفتے بھر کی مصروفیت کے بعد چند لمحے لطف اندوز ہوا جاسکے۔ سی ویو سے واپسی پر سڑک کے کنارے ایک سوزوکی ہائی روف گاڑی کھڑی تھی اور ایک لڑکا مدد کے لئے ہاتھ دے رہا تھا۔ میرے دوست نےانسانی ہمدردی میں گاڑی روکی اور اس سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ اس لڑکے نے بتایا کہ ان کی گاڑی پنکچر ہو گئی ہے اور ان کی پاس سٹیپنی بھی نہیں ہے۔ جب میرا دوست اس کو سٹیپنی دینے کے لئے ڈگی کھولنے لگا تو اس نے میری دوست کی کمر پر پستول رکھ دیا اور کہا کہ موبائل سمیت جو کچھ بھی ہے وہ نکال دو۔ ہم نے اپنے دوست کی مدد کے لئے باہر نکلنے کی کوشش کی تو ان کی گاڑی سے چار لڑکے نکل آئے اور ہمیں پکڑ لیا۔ ان کی پاس بھی خود کار ہتھیار تھے۔ انہوں نے ہماری تلاشی لی اور ہم لوگوں سے ہمارے موبائل چھین لئے۔ ہمیں ہماری گاڑی میں بند کر کے ہماری چابی ساتھ لے گئے۔ ہم بڑی مشکل سے گاڑی سٹارٹ کر کے گھر پہنچے۔ میں ابھی تک موبائل کے بغیر ہوں۔ اس خوف سے نیا موبائل نہیں خریدا کہ کوئی پھر نہ چھین لے۔ راحیل احمد میں ایک کالج میں بی بی اے کا طالبعلم ہوں۔ مجھے اور میرے دوستوں کو نئے اور اچھے موبائل رکھنے کا شوق ہے۔ یہ آٹھ جولائی کی بات ہے۔ ہم دوستوں کو ایک شادی میں جانا تھا۔ ہم دو گاڑیوں میں شادی گھر روانہ ہوئے۔ میں اگلی گاڑی میں اور میری دوست پچھلی گاڑی میں تھے۔ شاہراہ فیصل کے اشارے پر میرے دوستوں کی گاڑی موٹر سائیکل پر سوار لڑکوں نے روکی اور ان سے گن پوائنٹ پر موبائل فونز کا مطالبہ کیا۔ میرے چاروں دوستوں نے بغیر کسی مزاحمت کے موبائل ان کے حوالے کر دئیے۔ ان لڑکوں نے موبائل چھین کر ان کے سم کارڈ نکال کر سڑک پر پھینک دئیے اور فرار ہو گئے۔ ستم ظریفی یہ کہ پولیس کانسٹیبل سامنے کھڑا تھا مگر وہ انہیں نہ روک سکا بلکہ اس واقعہ کے دوران وہ بالکل لاتعلق کھڑا رہا۔ حمیر |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||