BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 July, 2004, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی کا بلند ترین مینار

رحمانیہ مسجد کا بلند مینار
رحمانیہ مسجد کے مینار کی لمبائی 213 فٹ اور چوڑائی 12x12 فٹ ہے
طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان کے احاطے میں بنائی گئی ہے۔

ڈیفینس اور کلفٹن کے آباد ہونے سے پہلے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں شہر کے متمول ترین لوگوں کی رہائشی بستی سمجھی جاتی تھی اور اب بھی شارع فیصل پر کثیرالمنزلہ تجارتی عمارتوں کی تعمیر سے اس علاقے کی کمرشل حیثیت، ڈیفینس اور کلفٹن کے کمرشل علاقوں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

پی ای سی ایچ سوسائٹی میں طارق روڈ اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع قبرستان کے احاطے میں موجود رحمانیہ مسجد لوگوں کی توجہ کا مرکز اس وقت بنی تھی جب یہاں پر رکن قومی اسمبلی طاہرالقادری باقاعدگی سے درس قرآن دیا کرتے تھے۔ مگر اب اس مسجد کی وجہ شہرت کراچی کا سب سے بلند وبالا مینار ہے جو ہر ایک کا مرکز نگاہ بن چکا ہے۔

یکم نومبر 2001 کو اس مینار کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا گزشتہ سال کے اواخر میں ہوا تھا۔ رحمانیہ مسجد کے اس مینار کی بلندی 213 فٹ اور زیادہ سے زیادہ گولائی 12x12 فٹ ہے۔ گویا رحمانیہ مسجد کا مینار 60 میٹر بلند مینار پاکستان سے تقریباً 18 فٹ زیادہ بلند ہے۔ رحمانیہ مسجد کے مینار پر چڑھنے کے لیے 365 سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ سیڑھیوں کی چوڑائی چار فٹ رکھی گئی ہے۔

لاگت
 مینار کی تعمیر کے لیے 50 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور یہ لگ بھگ 55 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا
منتظمین
مینار کے بیرونی حصہ میں 48 اور اندرونی حصے میں 39 لائٹس نصب کی گئی ہیں جب کہ مینار میں ایک فانوس بھی ہے۔ دور سے یہ مینار بہت پرشکوہ نظر آتا ہے۔ مینار کے اوپر بنائے گئے ہلال پر بھی چار لائٹس نصب ہیں جو اسے روشن رکھتی ہیں ۔ہلال کا نیم قطر چھ فٹ ہے اور اس کی مجموعی بلندی آٹھ فٹ ہے اور اسے خالص سٹیل سے بنوایا گیا ہے۔

رحمانیہ مسجد کا مینار اس وقت کراچی کی کسی عمارت سے زیادہ بلند ہے۔ مسجد کے منتظمین کے مطابق مینار کی تعمیر کے لیے 50 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور یہ لگ بھگ 55 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔

مینار کی تعمیر میں بنیادی کردار رکھنے والی شخصیات کا فن تعمیر کی نفاست اور نزاکت سے گہرا تعلق ہے۔ جامع مسجد رحمانیہ ٹرسٹ سے وابستہ خواجہ محمد اشرف خواجہ سٹریٹ کی وجہ سے شہر بھر میں جانے جاتے ہیں۔ خواجہ محمد اشرف نے گلی میں جو دو رویہ خوبصورت درخت اور پودے لگائے ہیں انہوں نے اسے شہر بھر میں منفرد بنادیا ہے۔ اس گلی کی تزئین و آرائش پر خواجہ محمد اشرف ان گنت میڈلز، ٹرافیاں، شیلڈز اور یادگار تمغے لے چکے ہیں۔خواجہ محمد اشرف کے دوسرے ساتھی کراچی کے معروف تاجر شیخ محمد اقبال ہیں۔

بلندی
 رحمانیہ مسجد کے اس مینار کی لمبائی 213 فٹ اور چوڑائی 12x12 فٹ ہے۔ گویا رحمانیہ مسجد کا مینار 60 میٹر بلند مینار پاکستان سے زیادہ بلند ہے
رحمانیہ مسجد کے مینار کی تعمیر کے بارے میں خواجہ محمد اشرف اور شیخ محمد اقبال کا کہنا ہے کہ خدا نے ہم سے عشق رسول پھیلانے کا کام لینا تھا سو لے لیا، ہم مینار کی تعمیر کے ہر مرحلے پر بے پناہ مسرت اور شادمانی کے مراحل سے گزرے۔ مینار کی تعمیر کے دوران جب کوئی اینٹ لائی جاتی یا جب کسی سیڑھی پر پلستر ہورہا ہوتا تھا تو ہم ناقابل بیان خوشی محسوس کرتے تھے۔

رحمانیہ مسجد میں 10 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ مسجد کے مرکزی حصے میں شیشے کا کام قابل دید ہے یہاں پر شیشے سے اللہ اور پیغمبر اسلام کے 99 اسمائے گرامی کندہ کیے گئے ہیں۔ مسجد میں خواتین کے لیے الگ ہال موجود ہے یہاں پر بین الاقوامی معیار کی لائبریری کی تعمیر بھی جاری ہے۔ رحمانیہ مسجد کے مینار اور دیگر تعمیرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر عقیدے کے ساتھ ساتھ انسان میں ذوق سلیم بھی ہو تو جذبے کی توانائی ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے اور اس کا ثبوت ہے رحمانیہ مسجد کا مینارہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد