کراچی کا بلند ترین مینار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان کے احاطے میں بنائی گئی ہے۔ ڈیفینس اور کلفٹن کے آباد ہونے سے پہلے پی ای سی ایچ سوسائٹی میں شہر کے متمول ترین لوگوں کی رہائشی بستی سمجھی جاتی تھی اور اب بھی شارع فیصل پر کثیرالمنزلہ تجارتی عمارتوں کی تعمیر سے اس علاقے کی کمرشل حیثیت، ڈیفینس اور کلفٹن کے کمرشل علاقوں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی میں طارق روڈ اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع قبرستان کے احاطے میں موجود رحمانیہ مسجد لوگوں کی توجہ کا مرکز اس وقت بنی تھی جب یہاں پر رکن قومی اسمبلی طاہرالقادری باقاعدگی سے درس قرآن دیا کرتے تھے۔ مگر اب اس مسجد کی وجہ شہرت کراچی کا سب سے بلند وبالا مینار ہے جو ہر ایک کا مرکز نگاہ بن چکا ہے۔ یکم نومبر 2001 کو اس مینار کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا گزشتہ سال کے اواخر میں ہوا تھا۔ رحمانیہ مسجد کے اس مینار کی بلندی 213 فٹ اور زیادہ سے زیادہ گولائی 12x12 فٹ ہے۔ گویا رحمانیہ مسجد کا مینار 60 میٹر بلند مینار پاکستان سے تقریباً 18 فٹ زیادہ بلند ہے۔ رحمانیہ مسجد کے مینار پر چڑھنے کے لیے 365 سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔ سیڑھیوں کی چوڑائی چار فٹ رکھی گئی ہے۔
رحمانیہ مسجد کا مینار اس وقت کراچی کی کسی عمارت سے زیادہ بلند ہے۔ مسجد کے منتظمین کے مطابق مینار کی تعمیر کے لیے 50 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور یہ لگ بھگ 55 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔ مینار کی تعمیر میں بنیادی کردار رکھنے والی شخصیات کا فن تعمیر کی نفاست اور نزاکت سے گہرا تعلق ہے۔ جامع مسجد رحمانیہ ٹرسٹ سے وابستہ خواجہ محمد اشرف خواجہ سٹریٹ کی وجہ سے شہر بھر میں جانے جاتے ہیں۔ خواجہ محمد اشرف نے گلی میں جو دو رویہ خوبصورت درخت اور پودے لگائے ہیں انہوں نے اسے شہر بھر میں منفرد بنادیا ہے۔ اس گلی کی تزئین و آرائش پر خواجہ محمد اشرف ان گنت میڈلز، ٹرافیاں، شیلڈز اور یادگار تمغے لے چکے ہیں۔خواجہ محمد اشرف کے دوسرے ساتھی کراچی کے معروف تاجر شیخ محمد اقبال ہیں۔
رحمانیہ مسجد میں 10 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ مسجد کے مرکزی حصے میں شیشے کا کام قابل دید ہے یہاں پر شیشے سے اللہ اور پیغمبر اسلام کے 99 اسمائے گرامی کندہ کیے گئے ہیں۔ مسجد میں خواتین کے لیے الگ ہال موجود ہے یہاں پر بین الاقوامی معیار کی لائبریری کی تعمیر بھی جاری ہے۔ رحمانیہ مسجد کے مینار اور دیگر تعمیرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر عقیدے کے ساتھ ساتھ انسان میں ذوق سلیم بھی ہو تو جذبے کی توانائی ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے اور اس کا ثبوت ہے رحمانیہ مسجد کا مینارہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||