| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مساجد کی تباہی
تئیس سالہ ایوان ڈوکووچ نے ٹین کی چادر کی چھ سات فٹ اونچی دیوار کے درمیان لگے گیٹ کی زنجیر بمشکل کھولی اور ہم بانیا لوکا شہر کے مرکز میں اس احاطے میں داخل ہوئے جو دور سے ہی ممنوعہ علاقہ ہونے کا تاثر دیتا ہے۔ گیٹ سے ذرا اندر ایک درخت کے سائے میں کھڑے ہو کر ایوان نے جنگلی جھاڑیوں اور کچرے سے بھرے احاطے کی طرف دیکھتے ہوئے مجرمانہ سے لہجے میں کہا کہ ’یہ ہے فرہادیہ مسجد، میرا مطلب ہے کہ وہ جگہ جہاں فرہادیہ مسجد ہوا کرتی تھی۔‘ میں نے اس کے بھولے بھالے سے چہرے کو دیکھا جس پر یہ صاف تحریر تھا کہ وہ اپنی ساری قوم کے وحشیانہ اقدامات کا بوجھ اپنے نو عمر کندھوں پر لیے کھڑا ہے۔ میں خاموشی سے چلچلاتی دھوپ میں جھلستی گھاس اور جھاڑیوں کو دیکھتی رہی۔ ’تم کیسے لوگ ہو؟‘ میں کسی سے پوچھنا چاہتی تھی لیکن ایوان تو اپنی قوم کے کردار پر پہلے ہی بہت شرمسار نظر آرہا تھا۔ چنانچہ ایک لمبا سانس لیکر ’ہونہہ‘ کے سوا کچھ نہ کہہ سکی۔
’دو سال پہلے مجھے یاد ہے‘، ایوان نے بات شروع کی، ’اسے دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ہونے والی تھی۔ بہت سے لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا۔ ’بہت برا منظر تھا۔‘ صورت حال یہاں تک قابو سے باہر ہوگئی کہ پولیس کی بھاری موجودگی کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں جمع سربوں نے حکام کو فرہادیہ کے احاطے تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس بپھرے ہوئے مجمعے کے غیض و غضب کا نشانہ وہ چند مسلمان بنے جو سولہویں صدی کے اس شاہکار کی تعمیر نو کی تقریب دیکھنے آئے تھے۔ ’ایک ادھیڑ عمر آدمی کو لاٹھیوں سے اس قدر پیٹا گیا کہ وہ چل بسا۔ ہر قوم میں کچھ وحشی لوگ ہوتے ہیں۔‘ ایوان آہستہ آہستہ بڑبڑا رہا تھا۔ مقامی صحافی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ میں نے ایک آدھ سے فرہادیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے شہر کی اس سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ادھر کہیں ہے وہ جگہ، کوئی خاص بات نہیں ہے وہاں دیکھنے کی۔‘ ایوان نے بتایا کہ یہ جگہ صرف مسلمانوں کے لیے باعث دلچسپی نہیں تھی بلکہ شہر کے پرانے علاقے کے بیچوں بیچ ہونے کی وجہ سے ہر برادری کے لوگ شام کو گھومتے پھرتے مسجد کے چھوٹے سے باغیچے میں آبیٹھتے تھے۔ ’فرہادیہ بانیا لوکا کے تمام شہریوں کے لیے ایک عظیم تحفہ تھا اور اس کی اہمیت صرف مسلمانوں کی مسجد کی حیثیت سے ہی نہیں تھی بلکہ وہ ثقافتی لحاظ سے ہم سب کے لیے باعث فخر اور اہم تھی۔ اور جب انیس سو ترانوے میں یہ تباہ ہوئی تو بہت سے سرب بھی اس المیے پر رنجیدہ تھے اور رو رہے تھے۔‘ ایوان کی آنکھیں واقعی نم ہورہی تھیں۔ اس کے مسلمان پھوپھا اردوان نے اسے میرا مترجم مقرر کرکے خاصی کڑی آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ اردوان واحد مسلمان صحافی تھے جن سے بانیا لوکا میں میری ملاقات ہوئی۔ اسلامی تاریخ اور ثقافتی تطہیر کا نشانہ صرف فرہادیہ ہی نہیں بلکہ بانیا لوکا اور اس کے آس پاس کے علاقے کی تقریباً ستّر دوسری مسجدیں بھی تھیں۔
اردوان کتانا نے سات مئی انیس سو ترانوے کی رات یاد کرتے ہوئے بتایا کہ فرہادیہ اور شہر کی تمام بڑی مسجدوں کو ڈائنا مائٹ لگانے کے بعد سرب فوجیوں نے گھڑی دیکھ کر سب کو بیک وقت اڑادیا تھا اور پورا شہر ان کے دھماکوں سے لرز گیا تھا اور ان کی دھول دوسرے دن بھی فضا میں معلق رہی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سربوں نے مسجدوں کو صرف تباہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ جہاں ہوسکا وہاں ان کی کوشش تھی کہ ساتھ ہی ساتھ ان کا ملبہ بھی اٹھادیا جائے اور اس علاقے سے سلطنت عثمانیہ اور اسلام کا ہر نشان یوں مٹادیا جائے کہ اس علاقے کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کا کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ چنانچہ بانیا لوکا اور مشرقی بوسنیا کے شہروں میں مسجدوں کو بنیادوں سے اڑادینے کے بعد فوری طور پر ان کا ملبہ صاف کردیا گیا۔ اسی طرح مشرقی شہر بیلژیہ میں تیرہ مارچ انیس سو ترانوے کی رات سربوں نے چھ مسجدوں کو ڈائنا مائیٹ کے ساتھ اڑانے کے بعد دوسرے دن بلڈوزروں کے ساتھ تمام ملبہ صاف کردیا۔ فرہادیہ کے امام اور اس وقت موجود مسلمانوں نے فرہادیہ کے ملبے میں سے تین چھوٹے چھوٹے ٹکڑے یادگار کے طور پر محفوظ کرلیے تھے جو احاطے کے کونے میں قائم اسلامی مرکز کی عمارت میں رکھے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بوسنیا کے سرب علاقے ریپبلکا سربسکا میں چار سو پچاس مسجدیں تباہ کی گئیں۔ یہاں مسجدوں کا یہ ’قتل عام‘ دریائے نریتوا کے اس پار موستار کے مغربی حصے پر قابض کروشیائی کررہے تھے اور اقوام متحدہ کے امن دستوں اور ٹینکوں کی موجودگی کے باوجود گاہے بگاہے گولہ باری اور نشانچیوں کی گولیاں بھی مسلمان علاقوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔
بانیا لوکا کے مسلمان علاقے وربانیہ میں جہاں چند مسلمان خاندان واپس آ رہے تھے وہاں ایک زیرِ تعمیر مسجد اپنی تعمیر کے آخری مرحلے میں تھی۔ اس مسجد کے بائیس سالہ امام مسجد کے گنبد پر کام مکمل ہوتا دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ کب وہ اذان کی آواز یہاں سے سن سکیں گے۔ انیس سو چورانوے میں وہاں میری ملاقات مفتی ہرزِگووینا سعید سمائیکچ سے ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ مسجدوں کی مرمت بوسنیائی عوام کی روحانی اور جذباتی صحتیابی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس بار پھر ان سے ملاقات ہوئی تو اس موضوع کے بارے میں مجھے وہ اور زیادہ رنجیدہ لگے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اب ان کے سامنے پورے ملک میں اسلامی ورثے کی تباہی ہے جس کا اس وقت اندازہ کرنا قبل از وقت تھا۔ اور تعمیرِ نو اور بحالی کا کام جس رفتار سے ہورہا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں بہت دیر لگے گی۔ اگر چہ مسجدوں کے بارے میں اعداد وشمار اب بھی مکمل نہیں ہیں لیکن ان کے مطابق ملک بھر میں پندرہ سو سے زیادہ جامعہ اور دو ہزار مسجدیں تباہ ہوئیں ہیں۔ یہاں انہوں نے وضاحت کی کہ ’مینار اور گنبد والی مسجد کو ہم یہاں جامعہ کہتے ہیں اور دوسری مذہبی عمارتوں کو مسجد کہتے ہیں جن میں مدرسے، لائبریریاں، امام کی رہائش گاہ اور جامعہ سے منسلک دفاتر وغیرہ شامل ہیں‘۔ موستار کی تاریخی مساجد میں قدیم ترین مسجد مشرقی موستارکے مرکز میں چار سو تیس سال پرانی کراجزبے مسجد ہے جس کی مرمت کا کام ابھی شروع نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ کوسکی، مہمت پاشا، اور سلطان سلیم مسجد اور مغربی موستار میں درویش پاشا بایازت مسجد ہے۔ اس کے علاوہ یحیٰی مسجد، ابراہیم آغا مسجد، حاجی حسن مسجد اور بابا بشیر مسجد۔ مفتی سعید سمائیکچ کی فہرست بہت لمبی ہے اور وہ بھی کیا کریں اس قدیم شہر کا چپہ چپہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک باب ہے۔
جو بات مفتی ہرزِگوونیا کے لئے مایوس کن ثابت ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد اسلامی ممالک سے آنے والی بہت سی امداد بند ہوگئی ہے کیوں کہ اسلامی ممالک نے ایسے بہت سے ادارے یا تو بند کردیئے ہیں یا ان پر پابندیاں عائد کردی ہیں جو اسلامی منصوبوں کے لیے رقوم دے رہے تھے۔ باہر سے آنے والی امداد کے ایک دوسرے پہلو کے بارے میں ساراژیوو کی آرٹ اکیڈمی کی پروفیسر میٹکا ہوزو نے بتایا کہ تباہ شدہ مسجدوں کی تلافی کے طور پر اسلامی ممالک سرمایہ تو بھیج رہے ہیں لیکن وہ ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ یہ رقوم ان علاقوں میں نئی مساجد کی تعمیر پر خرچ ہوں جہاں پناہ گزین بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا اور کویت امداد دینے والے ممالک میں قابل ذکر ہیں۔ تاہم امداد دینے والے ممالک اپنے نام پر اور اکثر اپنے طرز تعمیر پر مساجد بنواتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ جو امداد آ بھی رہی ہے وہ قدیم اور تاریخی مساجد کی مرمت پر بہت کم صرف ہورہی ہے۔
ساراژیوو میں اس وسیع پیمانے پر مسجدوں کی تباہی نہیں ہوئی جیسی بانیا لوکا اور دوسرے شہروں میں نظر آتی ہے۔ ساراژیوو میں رئیس علماء کے دفتر میں نرمین شانس کا کہنا تھا کہ تین سال کے محاصرے کے دوران شہر کی ستر مسجدوں میں ٹوٹ پھوٹ تو سبھی کی ہوئی لیکن مکمل طور پر صرف پانچ یا چھ تباہ ہوئیں۔ لیکن ایک بات جو مفتی سعید سمائیکچ کے لئے حوصلہ افزا ہے وہ یہ ہے کہ مسجدوں کی تعداد بھلے کم ہوگئی ہے مگر نمازیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ نسلی اور ثقافتی تطہیر کی ہر مہم کے باوجود یورپ میں اسلام ابھی بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||