BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 January, 2004, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں خواتین کی مسجد

داؤد شریفہ
خواتین کی علیحدہ مسجد بنانا ضروری ہے

بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں داؤد شریفہ مایوسی کا شکار خواتین سے ملاقاتیں کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ شرمیلی خواتین اپنی دھیمی آواز میں وہ تفصیلات بتا رہی ہیں کہ ان کے سابقہ شوہروں نے کس طرح انہیں برے سلوک کا نشانہ بنایا، انہیں چھوڑ دیا اور انہیں تک طلاق دے دی۔

انتالیس برس کی شریفہ کسی ساتھی کے بغیر زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ خواتین کو مشورے دیتی ہیں اور تین ہزار مسلم خواتین پر مشتمل ایک نیٹ ورک کی روح رواں ہیں۔

مسجد
بیشتر مساجد میں خواتین کو عبادت کی جازت نہیں

شریفہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ خواتین اپنے لئے علیحدہ عبادت گاہ کریں اور شادی، طلاق، گھریلو مسائل اور بچوں کے تحویل کے معاملے میں کئے جانے والے فیصلوں میں شرکت کریں۔ لوگ بغور ان کی بات سنتے ہیں اور حامی بھرتے ہوئے سر ہلاتے ہیں۔

روایتی اعتبار سے مردوں کے غلبے والے بھارت کی اس جنوبی ریاست میں خواتین کے حق کے لئے آواز اٹھانے والی شریفہ ایک غیر عمومی شخصیت ہیں۔ انہوں نے خواتین کی علیحدہ مسجد کا نکتہ اٹھا کر حکومت میں ہلچل مچا دی ہے۔

بی بی سی نیوز آن لائن سے بات کرتے ہوئے شریفہ نے کہا کہ ’ہمیں عبادت کرنے، اپنے دکھ بانٹنے اور ایک دوسرے سے بات چیت کے لئے ایک علیحدہ جگہ کی ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ہماری بات بھی سنی جائے۔‘

خواتین
خواتین مسجد سے ملحقہ عمارت میں عبادت کرتی ہیں

بھارتی مسلم خواتین عموماً مساجد سے ملحقہ عمارتوں میں عبادت کرتی ہیں یا پھر چند بڑی مساجد میں خواتین کے لئے علیحدہ احاطے قائم کئےگئے ہے۔‘

تامل ناڈو کے وقف بورڈ کی سربراہ اور چنائی میں کام کرنے والی وکیل بدر سید کہتی ہیں کہ ’بیشتر مساجد میں خواتین کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت ضروری ہے کہ خواتین بھی مساجد میں ہونے والے اجتماع کا حصہ بنیں کیونکہ بعض اوقات ان مساجد میں جاری خطبات کا تعلق خواتین سے ہوتا ہے اس لئے کیا ہی اچھا ہو اگر خواتین مذہبی حوالے سے اپنے حقوق کے بارے میں جانکاری حاصل کر سکیں۔

شریفہ نے بتایا کہ خواتین کے لئے علیحدہ مسجد بنانے کی تجویز اس لئے پیش کی گئی ہے کیونکہ مذہبی رہنماؤں کے جانبدارانہ فیصلوں کے بارے میں مقامی خواتین کی شکایات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو غیر ضروری طور پر دبایا جا رہا ہے اور بیشتر فیصلے ان کے خلاف ہی کئے جاتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد