ُWTO کے ثمرات پاکستانی کسان سے دُور؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار یکم اگست کو جنیوا میں عالمی تجارتی ادارے یا WTO کے اجلاس میں امیر اور غریب ممالک نے بہر حال یہ طے کر ہی لیا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں کسانوں کو دی جانے والی کئی بلین ڈالر مالیت کی زرعی مراعات میں اب کٹوتی کی جائے گی۔ پاکستان کے وفاقی وزیر صنعت و تجارت ہمایوں اختر کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کے زرعی شعبے کو مزید پنپنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی اہم زرعی برآمدات میں چاول، شکر، کپاس تو شامل ہیں ہی لیکن پاکستان کا دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے بھی پانچویں بڑا ملک ہے۔ اب پاکستانی ڈیری مصنوعات کے لیے بھی نیا راستہ ہموار ہو گا۔ لہذا اس فیصلے سے پاکستان کی جی ڈی پی یا ملک کی مجموعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ سرکاری سطح پر جہاں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے وہیں حکومت یہ بھی تسلیم کر رہی ہے کہ اب اس کا مقابلہ کھلی منڈی میں اپنے پڑوسی ملک بھارت سے پہلے سے بھی کہیں زیادہ سخت ہو گا۔
صوبہ سندھ میں زرعی شعبے کے ایک ماہر اور حیدرآبار کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر قمر الزمان شاہ نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مغربی بھارت میں کسانوں کے لیے ٹیوب ویل کی بجلی مفت ہے۔ ’وہاں کھاد سستی اور کیڑے مار دوائیں پاکستان کی نسبت دس فیصد کم قیمت پر مہیا کی جاتی ہیں اور جب تک ان تمام عوامل پر حکومت کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کرتی یہ فیصلہ پاکستانی کسانوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ سید قمر الزمان شاہ کے مطابق پاکستانی کسان تو تبھی چین کی نیند سو سکے گا جب اسے اپنی فصل کے لیے کم لاگت پر کھاد، ڈیزل اور کیڑے مار ادویات مہیا کی جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||