’شادی کھانوں پر پابندی جائز ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپریم کورٹ نے شادی بیاہ کے موقع پر کھانے کھلانے پر پابندی کے متعلق وفاقی حکومت کے قانون کو درست قرار دیا ہے۔ ملک کی اعلی ترین عدالت نے آئینی درخواستوں پر اپنے تفصیلی فیصلے میں جہیز مانگنے اور اس کی نمائش کرنے، مہندی، باراتوں اور مایوں بٹھانے کی رسومات کو ہندووانہ رسومات قرار دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ایسی سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں رواں سال ستمبر کے آخری ہفتے میں دو دن سماعت کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جو جمعہ کے روز جاری کیا گیا۔ بینچ کے دوسرے ممبر جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس تصدق حسین جیلانی تھے، شادی بیاہ کے مواقع پر کھانے کھلانے پر فضول خرچیوں اور دولت کے نمود و نمائش کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے سن دو ہزار میں ایک آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت گھر کی چار دیواری کے اندر کھانے کھلانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔ البتہ بڑے ہوٹلوں اور شادی ہال بک کرانے اور ان میں کھانوں کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی۔ اس قانون کے تحت مہمانوں کو’سافٹ ڈرنک، دینے کی اجازت دی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کے قانون کی موجودگی میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے سن دوہزار تین میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت صوبے بھر میں شادی بیاہ اور ولیمہ کے موقع پر’ون ڈش، یعنی ایک کھانا کھلانے کی اجازت دے دی گئی۔ پاکستان میں شادی ہال اور پولٹری فارمز کی تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں سن ننانوے میں چودھری محمد صدیق نے دیگر دو درخواست گزاروں کے ہمراہ آئینی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گذاروں کا موقف تھا کہ شادی کے موقع پر کھانوں پر پابندی لگا کر حکومت نے آئین میں درج کیے گئے بینادی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ پولڑی کی صنعت سے وابستہ درخواست گذاروں کا موقف تھا کہ ان کا کاروبار تباہ ہورہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلاء کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز کا بھی مؤقف سننے کے بعد فیصلہ دیا ۔ سپریم کورٹ نے پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے’ون ڈش، کی اجازت کے بارے میں قانون کو خلاف آئین قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ وفاق پاکستان جب کوئی قانون لاگو کرے اور جب تک وہ نافذالعمل ہے اس وقت تک کوئی صوبہ وفاق کے قانون کے برعکس کوئی قانون سازی نہیں کرسکتا کیونکہ ایسا کرنا آئین کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت دونوں آئینی درخواستیں مسترد کرتی ہے اور وفاقی حکومت کے نافذ کردہ آرڈیننس جو کہ ملک بھر پر لاگو ہے، اسے جائز قرار دیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||