BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 February, 2006, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: پسند کی شادی کا حق ہے

پاکستان کی عدالت اعظمیٰ
عدالت اعظمیٰ نے پسند کی شادی کے معاملات میں اغوا کے مقدمے درج کرانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے کہا ہے کہ قانون اور شریعت کے مطابق اٹھارہ برس یا اس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو اپنی پسند اور مرضی کے مطابق شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔

پیر کے روز جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ ’اٹھارہ سال کی لڑکیوں کو ریاستی قانون اور شریعہ مرضی کے مطابق شادی کا فیصلہ کرنے کا مکمل حق حاصل ہے‘۔

یہ مقدمہ نسرین اختر نے دائر کیا تھا۔ جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی بیٹی کرن اور بہو رابعہ کو اغوا کیا گیا ہے۔ جس پر عدالت نے لاہور پولیس کو حکم دیا کہ متعلقہ لڑکیاں عدالت میں پیش کی جائیں۔

پیر کے روز درخواست گزار نسرین اختر اور ان کی بیٹی اور بہو کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں دونوں لڑکیوں نے بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئیں تھیں۔

کرن نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے سیالکوٹ کے رہائشی کامران مقبول سے اپنی رضامندی سے شادی کی اور ان دنوں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

عدالت نے کرن کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دی اور رابعہ کو کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے شوہر سے خلع حاصل کرسکتی ہیں اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتی ہیں۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ انہیں ضروری تحفظ فراہم کریں۔

عدالت اعظمیٰ نے پسند کی شادی کے معاملات میں والدین کی جانب سے اغوا جیسے الزامات کے تحت مقدمے درج کرانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں آئے روز اخبارات میں پسند اور مرضی کے مطابق شادی کرنے کا حق نہ دینے کی وجہ سے لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے اور اپنی پسند کے مطابق شادی کرنے کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

جبکہ والدین کی جانب سے متعلقہ افراد کے خلاف اغوا کے مقدمے درج کرنے کی بھی خبریں سامنے آتی ہیں۔ ایسے معاملات میں با اثر والدین پولیس کے ’تعاون، سے اکثر لڑکے کے والدین کو تنگ کرکے اپنی بچیاں واپس بھی لے لیتے ہیں۔

اسی بارے میں
شادی،جج کی خودکشی کی وجہ
05 September, 2005 | پاکستان
کاروکاری قتل تصور ہو گا
26 October, 2004 | پاکستان
پیار کی شادی، ایک اور قتل
26 September, 2004 | پاکستان
پسند کی شادی کی سزا
08 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد