پیار کی شادی: ہائی کورٹ کے باہرقتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں چنیوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کو سوموار کو لاہور ہائی کورٹ کے باہرگولیاں مار کر ہلاک کر دیاگیا۔ لڑکی نے اپنی پسند سے شادی کی تھی اور وہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے جارہی تھی ۔ یہ واقعہ پیر کو ساڑھے دس بجے لاہور ہائی کورٹ کے باہر ٹرنر روڈ پر پیش آیا۔ چنیوٹ کے نواح میں عباس کالونی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی عاصمہ نے دو ہفتہ پہلے اپنے محلہ کے ایک لڑکے کے ساتھ والدین کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرلی تھی اور ان کا نکاح یونین کونسل میں رجسٹر ہوا تھا۔ شادی کرنے والی لڑکی اور لڑکے کا تعلق دو محتلف برادریوں سے تھا۔ لڑکی کا تعلق بھٹی خاندان سے اور لڑکے کا تعلق میو خاندان سے تھا۔ لڑکی کے بھائی نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کی ہوئی تھی کہ لڑکی کو اغواء کیا گیا ہے اور اسے برآمد کروایا جائے اور پولیس کو کہا جائے کہ وہ اس سلسلے میں اغواء کا مقدمہ درج کرے۔ آج لڑکی عاصمہ ، اس کا شوہر ، اس کی ساس اور سسر جسٹس بشیر اے مجاہد کی عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت میں پیش ہونے کے لیے آرہے تھے کہ ہائی کورٹ کے احاطہ کے باہر چند لوگوں نے ان پر پستولوں سے فائرنگ کردی جس سے لڑکی ہلاک ہوگئی اور اس کے ساس اور سسر زخمی ہوگئے۔ جو میو ہسپتال میں داخل ہیں۔ پولیس نے لڑکی کے شوہر کی درخواست پر چھ ملزموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور لڑکی کے بھائی حیدر علی کو اپنی بہن کو قتل کرنے کے الزام میں پستول سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم دوسرے ملزم ابھی تک گرفتار نہیں کیے جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||