پیار کی شادی، ایک اور قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد سندھ میں ہفتے کے روز اپنی پسند سے شادی کرنے والی سترہ سالہ خدیجہ کلادی کو خاندان کے لوگوں نے ایک پولیس افسر کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ خدیجہ کلادی جس کی عمر سترہ سال بتائی جاتی ہے ،نے اپنی مرضی کے ساتھ غلام عباس کلاچی کے ساتھ شادی کر لی تھی جس پر خاندان کے لوگوں کو اعتراض تھا۔ غلام عباس کلاچی محکمہ پولیس میں وائرلیس آپریٹر ہے۔ اطلاعات کے مطابق خدیجہ کلادی نے پولیس افسر غلام محمد ہاکڑو کے گھر میں پناہ لے رکھی تھی۔ لیکن خاندان کے لوگ ہفتے کے روز غلام محمد ہاکڑو کے گھر میں گھس گئے ۔ڈاکٹروں کے مطابق خدیجہ کو کم از کم آٹھ گولیاں ماری گئیں۔ غلام محمد نے قتل کی رپورٹ میں لڑکی کے دو چچوں غلام نبی، شبیر اور دیگر لوگوں کو ملزمان نامزد ہے۔ حکومت نے اس واقعے کےنتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ڈی ایس پی نیاز چانڈیو اور ایس ایچ آو کو معطل کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد عام لوگوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اب لوگ تھانے کی حدود میں بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ خدیجہ کا قتل پولیس کے بعض ذمہ دار افراد کے ساتھ ساز باز کے بعد عمل میں آیا ہے۔ خدیجہ کی لاش رات گئے اس کی رشتہ دار بوڑھی خواتین نے وصول کی اور علاقے کے لوگوں نے اس کی تدفین کرائی ۔ خدیجہ کے گھرانے کے تمام مرد گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔ پولیس کو خدیجہ کے قتل کے نتیجے میں کلادی اور کلاچی قبائل کے درمیان تصادم کا خدشہ بھی ہے۔ اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ اس قتل سے صرف آدھے گھنٹے قبل کلاچی قبیلے کے بعض با اثر افراد نے تھانے کے لاک اپ میں خدیجہ کے شوہر غلام عباس کلاچی سے زبردستی طلاق نامے پر دستخط کرائے تھے۔ ضلع گھوٹکی اور بالائی سندھ کے دیگر اضلاح میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||