BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 05:42 GMT 10:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شادی میں کھانا، وارنٹ جاری

سپریم کورٹ
پہلی بار سپریم کورٹ نے شادی میں کھانا کھلانے پر کسی حکومتی عہدیدار کے خلاف کارروائی کی ہے
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر برائے بجلی و پانی لیاقت جتوئی کے بیٹے کی شادی میں باراتیوں کو کھانا کھلانے پر ان کے سمدھی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے وزیر قانون ظفر اعظم کے بھائی کی شادی میں کھانا کھلانے پر ان کے بھائی کے خلاف توہین عدالت کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ نے شادی میں کھانا کھلانے پر کسی حکومتی عہدیدار کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کر رہے تھے پانچ صفحات پر مبنی اپنے فیصلے میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور پولیس سربراہان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ شادی میں کھانا نہ کھلانے کے سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کروائیں اور جو بھی اس کی حکم عدولی کرے اس کے خلاف فی الفور مقدمات درج کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ کی پندرہ تاریخ کو احکامات جاری کیے تھے جن کے مطابق کھلے عام شادیوں میں کھانے کھلانے والوں پر توہین عدالت کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔

مگر عدالت کے مطابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کے بیٹے کی شادی میں ان کے سمدھی ہادی بخش جتوئی نے گزشتہ ماہ کی سترہ تاریخ کو حیدرآباد کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور باراتیوں کو مختلف انواع و اقسام کے کھانے کھلائے۔ لیاقت جتوئی کے سمدھی صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر کو اس لیے نوٹس جاری نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اس شادی میں عدالت کے مطابق مہمان کی حیثیت سے شامل تھے۔

دوسرے کیس میں عدالت کے مطابق صوبہ صرحد کے وزیر قانون کے بھائی کے بیٹے کی شادی میں بھی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔

صوبہ سرحد کے وزیر قانون آج عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے ان کی مرضی کے خلاف اپنے بیٹے کی شادی کے کارڈ میں ان کا نام شامل کیا ہے جبکہ ان کی اپنے بھائی سے ناراضگی ہے۔

عدالت کے مطابق اس سلسلے میں عدالت کو بے شمار شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور شادیوں میں باراتیوں کو کھانے کھلائے جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سن دو ہزار چار میں شادیوں میں کھانا کھلانے پر پابندی لگائی تھی اور اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کسی بھی ہوٹل، کلب اور شادی ہال میں باراتیوں کو کھانا کھلانے کی ممانعت ہو گی اور مہمانوں کی صرف گرم یا ٹھنڈے مشروب سے تواضع کی جائے۔

تاہم اس حکم کی ملک بھر میں کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی جس کے بعد عدالت نے اس حکم عدولی کے خلاف ایکشن لینا شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
وزیر کے ہاتھوں بیرے کی پٹائی
22 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد