وزیر کے ہاتھوں بیرے کی پٹائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مقامی فائیو سٹار ہوٹل میں مبینہ طور پر کھانا تاخیر سے دینے پر وفاقی وزیرِ قانون سید محمد وصی ظفر کی جانب سے ایک بیرے کی پٹائی کا معاملہ حزب اختلاف کے ایک رکن نے قومی اسمبلی میں اٹھایا لیکن سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور ان کا مائیک بند کرادیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید نیر بخاری نے جمعرات کے روز اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کا ذکر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر قانون کھانےمیں تاخیر پر غصہ ہو گئے اور انہوں نے ویٹر کی پٹائی کر دی۔ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات گئے اس وقت پیش آیا جب وفاقی وزیر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کھانے کے لیے ہوٹل گئے تھے۔ اس وقت دو وفاقی وزراء ، آرمی افسر اور کچھ صحافی بھی موقع پر موجود تھے۔ وزیر سے جب رابطہ کیا گیا تو پہلے انہوں نے واقعہ کی تصدیق سے انکار کیا لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ ہوٹل انتظامیہ نے اس کی تصدیق کی ہے تو وزیر نے کہا کہ کھانا فراہم کرنے میں غیر ضروری تاخیر ہوئی تھی جس پر انہوں نے ہوٹل انتظامیہ سے شکایت کی تھی۔ تاہم وزیر کے بقول انتظامیہ نے ان سے اس پر معذرت بھی کی تھی لیکن ویٹر کی پٹائی کرنے کی وزیر نے سختی سے تردید کی۔ میریٹ ہوٹل کے ترجمان جمیل خاور نے بتایا کہ تازہ کھانا تیار کرنے میں بیس منٹ لگ ہی جاتے ہیں لیکن وزیر نےاس پر شور کیا اور عملے کے ایک رکن کو تھپڑ ماردیا جس پر تلخی ہوگئی تھی تاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ پہلے وزیر کے ایک نوجوان عزیز نے ویٹر پر ’شاؤٹ‘، کیا اور بعد میں وزیر قانون نےسخت غصے میں آ کر مینیجر کو طلب کیا اور تلخی کے دوران ایک ویٹر کی پٹائی کی۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر قانون کے بیٹے نے دو ماہ قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر ایک مسافر کی اس وقت پٹائی کردی تھی جب وزیر اور ان کے بیٹے نے قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے کاؤنٹر پر جانا چاہا اور متعلقہ مسافر نے انہیں قطار میں آنے کو کہا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||