BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 September, 2004, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی کابینہ میں کون کیا؟

کابینہ ارکان
کابینہ میں گیارہ نئے چہرے جبکہ اکیس سابق وزیر ہیں
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت کی بتیس رکنی کابینہ میں گیارہ نئے چہرے بھی سامنے آئے ہیں۔ باقی انیس سابق وفاقی وزیر ہیں جبکہ سابقہ کابینہ کے دو وزراء مملکت کو وفاقی وزیر بنایا گیا ہے۔

گیارہ نئے وزراء میں سندھ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس عبدالرزاق تھیم کا تعلق مسلم لیگ کے پیر پگاڑہ کے گروپ سے ہے اور وہ صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد کے رہائشی ہیں۔ وہ سینیٹ کے رکن ہیں۔

حیدرآباد میں پیدا ہونے والے چون سالہ محمد شمیم صدیقی کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے ہے اور وہ متحدہ قومی موومنٹ کی ٹکٹ پر کراچی سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت کے پارلیمانی سیکریٹری تھے۔

چونسٹھ سالہ امان اللہ خان جدون ایبٹ آباد سے حکمران مسلم لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ سن پچاسی اور اٹھاسی میں صوبہ سرحد کے صوبائی وزیر جبکہ ترانوے میں کشمیر امور کے وفاقی وزیر رہے تھے۔

غلام سرور خان ٹیکسلا سے حکمران مسلم لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ وہ اکتوبر سن دو ہزار دو کے انتخابات سے چند دن قبل تک بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے جیالے سمجھے جاتے تھے۔

کابینہ کے ارکان
وہ سن پچاسی سے چھیانوے تک چار مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن رہے اور بطور صوبائی وزیر صحت بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔

چودھری شہباز حسین جہلم سے رکن اسمبلی بنے۔ وہ سابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین مرحوم اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چودھری افتخار حسین کے بھائی ہیں۔

انسٹھ سالہ ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی میانوالی سے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد بینظیر بھٹو سے اختلافات کی وجہ سے’پیٹریاٹ‘ میں شامل ہوگئے۔

وہ چار مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں اور پارلیمانی سیاست سے خاصی آگہی رکھتے ہیں۔ وہ پہلے بھی وزیر رہ چکے ہیں۔

چھپن سالہ محمد وصی ظفر فیصل آباد سے حکمران مسلم لیگ کی ٹکٹ پر پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔

مشتاق علی چیمہ بھی فیصل آباد سے پہلی بار حکمران جماعت کے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر بنے ہیں۔

رحیم یار خان سے پہلی بار حکمران مسلم لیگ کی ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے والے جہانگیر خان تریں سن تریپن میں موجودہ بنگلہ دیش کے شہر کومیلا میں پیدا ہوئے۔

ان کا شمار امیر ترین اراکین اسمبلی میں ہوتا ہے اور وہ لیکچرر اور بینکار بھی رہے ہیں۔ لیکن ابھی صنعتکار ہیں۔ وہ مخدوم احمد محمود کے بہنوئی اور پیر پگاڑہ کے بڑے صاحبزادے پیر صبغت اللہ راشدی کے ہم زلف ہیں۔

میاں شمیم حیدر شیخوپورہ سے حکمران جماعت کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے لندن یونیورسٹی سے سول انجنیئرنگ میں گریجویشن کر رکھی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اشرف قاضی سینیٹر ہیں۔ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

قبل ازیں وہ صدر مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریلوے کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

موجودہ کابینہ میں گیارہ نئے وزراء کے علاوہ دو ایسے بھی وزراء ہیں جو سابقہ کابینہ میں وزیر مملکت رہے لیکن اب انہیں وفاقی وزیر بنادیا گی۔

حبیب اللہ وڑائچ لاہور کی قومی اسمبلی کی نشست ایک سو انتیس سے حکمران جماعت کے رکن منتخب ہوئے اور سابقہ کابینہ میں دفاعی پیداوار کے مملکتی وزیر تھے۔ وہ پہلے پنجاب کے صوبائی وزیر بھی رہے تھے۔

چکوال سے مسلم لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے طاہر اقبال چوبیس برس فوج میں کام کرنے کے بعد سعودی عرب میں لیبر اتاشی بھی رہے ہیں۔ وہ سابقہ کابینہ میں مملکتی وزیر برائے ماحولیات تھے۔ وہ ریٹائرڈ جنرل مجید ملک کے رشتہ دار بھی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد