بتیس رکنی کابینہ نےحلف اٹھا لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی بتیس رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھالیا ہے جس میں گیارہ نئے چہرے جبکہ پرانی کابینہ کے اکیس اراکین شامل ہیں۔ ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب میں صدر جنرل پرویز مشرف نے نئی وفاقی کابینہ سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب میں سابق وزراء اعظم، سفارتکاروں، سینیئر فوجی و سویلین حکام بھی شریک تھے۔ وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف اٹھانے والے وزراء میں اکثریت حکمران مسلم لیگ کی ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کو پہلے سے دیئے گئے حصے میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ پرانی کابینہ کے اکیس اراکین میں سے حلف اٹھانے والوں میں خورشید محمود قصوری، راؤ سکندر اقبال، لیاقت علی جتوئی، مخدوم فیصل صالح حیات، نوریز شکور،غوث بخش مہر،محمد نصیر خان، بابر غوری، ہمایوں اختر خان، محمد اعجاز الحق، شیخ رشید احمد، میجر ریٹائرڈ حبیب اللہ وڑائچ، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، اویس احمد خان لغاری، محمد اجمل خان، ڈاکٹر غازی گلاب جمال خان، آفتاب احمد شیر پاؤ، سردار یار محمد رند، زبیدہ جلال، میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال اور سید صفوان اللہ شامل ہیں۔ حلف اٹھانے والے گیارہ نئے وزراء میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی، امان اللہ جدون، جہانگیر ترین، جسٹس ریٹائرڈ عبدالرزاق تھیم، ملک غلام سرور خان، وصی ظفر، مشتاق علی چیمہ، چودھری شہباز حسین، شیر افگن خان نیازی، محمد شمیم صدیقی اور میاں نسیم حیدر شامل ہیں۔ حلف اٹھانے کے بعد شیخ رشید احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ حلف اٹھانے والے بتیس اراکین ہی وفاقی وزیر ہوں گے جبکہ پچیس کے لگ بھگ وزراء مملکت اور وزیراعظم کے مشیر جمعہ کو حلف اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پرانی یعنی وزارت اطلاعات ہی ملے گی جبکہ دیگر محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری مشاہد حسین سید نے بھی تصدیق کی کہ کابینہ کا پہلا مرحلا مکمل ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں وزراء مملکت جمعہ کو حلف اٹھائیں گے۔ کابینہ میں شامل میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال پہلے بھی کابینہ میں شامل تھے لیکن فرق یہ ہے کہ اب وہ وفاقی وزیر ہوگئے ہیں کیونکہ پہلے وزیر مملکت ہوتے تھے۔ کابینہ کے حلف کے ساتھ ہی وزراء کو فارغ کرنے کے متعلق قیاس آرائیاں بھی خاصی حد تک کم ہوجائیں گی۔ پاکستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ وزیراعظم کے حلف اٹھانے کے پانچ دن بعد وزراء حلف اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل سے قبل ہی وزیر خارجہ کے طور پر خورشید محمود قصوری کا نام سرکاری خبر رساں ایجنسی’اے پی پی‘ دیتی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||