آخری مرحلہ بھی طے ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شوکت عزیز نے سنیچر کی صبح پاکستان کے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد شام کو قومی اسمبلی کے ایوان سے 191 ووٹ لے کر اعتماد کا ووٹ بھی لے لیا ہے۔ اعتماد کے ووٹ کی مکمل کارروائی کا حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کیا اور ان کا کوئی رکن بھی ایوان میں نہیں آیا۔ حزب اختلاف کے اتحاد’اے آر ڈی، نے شوکت عزیز کے مقابلے کے لیے اپنے نامزد امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کو اجلاس میں نہ لائے جانے کے خلاف نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ شوکت عزیز نے حلف اٹھانے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور کابینہ کی تشکیل کے بارے میں ابتدائی مشاورت بھی کی۔ اس ملاقات میں حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین بھی موجود تھے۔ تحلیل شدہ کابینہ کے بعض اراکین کا کہنا ہے کہ آئندہ بدھ تک کابینہ حلف اٹھالے گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس حکومت نے تین بجے طلب کیا تھا لیکن اجلاس مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے بعد شروع ہوا اور سپیکر چودھری امیر حسین نے اعتماد کے ووٹ کے لیے لابیوں میں جانے کا طریقہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ اس پر کسی حکومتی رکن نے کہا کہ آواز کے ووٹ کے ذریعے ہی کام چلائیں تو سپیکر نے ان سے کہا کہ آپ نے شڈول نمبر دو پڑھا ہے؟ اس پر ایوان اور گیلریوں میں بے ساختہ قہقہہ لگا۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد حکومتی اتحاد کی تمام جماعتوں اور دیگر سرکردہ رہنماؤں نے شوکت عزیز کو مبارکباد دی۔ اعتماد کے ووٹ کے ساتھ ہی اقتدار کی شوکت عزیز کو منتقلی کی تمام رسمیں پوری ہوگئی ہیں۔ حکومتی رکن اسمبلی مخدوم احمد عالم انور ووٹ نہیں دے سکے کیوں کہ وہ مقررہ وقت کے اندر ایوان میں نہیں آسکے۔ شوکت عزیز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن وامان کو ٹھیک کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ اہم اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے جارحانہ عزائم نہیں البتہ دفاعی ضروریات کے لیے اضافی وسائل مہیا کریں گے۔ انہوں نے جوہری پروگرام میں ضروری توسیع اور اسے قائم رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ اجلاس سے قبل ’اے آر ڈی، کے رہنما مخدوم امین فہیم اور چودھری نثار علی خان نے پارلیمینٹ ہاؤس کے ایک کمیٹی روم میں اخباری کانفرنس میں کہا کہ قائد ایوان کا انتخاب ایک ایسا مقابلہ تھا جس میں ان کے امیدوار کو ہاتھ پاؤں باندھ کر مقابلے کے میدان میں اتارا گیا جو جمہوری روایات کی نفی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ سنیچر کی صبح ایوان صدر میں منعقد تقریب میں صدر جنرل پرویز مشرف نے شوکت عزیز سے وزیر اعظم کا حلف لیا۔ تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، حلف برداری کی تقریب میں سابق وزراء اعظم، چاروں صوبوں کے گورنر اور وزراء اعلیٰ اور تحلیل کردہ کابینہ کے اراکین کے علاوہ سفارتکاروں، فوجی و سویلین افسروں نے شرکت کی۔ شوکت عزیز جمعہ کی شام قومی اسمبلی سے 191 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔ اس موقع پر حزب اختلاف نے اپنے امیدوار جاوید ہاشمی کو ایوان میں پیش نہ کرنے کے خلاف انتخاب کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||