BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 August, 2004, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور

مخدوم جاوید ہاشمی
چوہدری شجاعت حسین، میر ظفراللہ جمالی اور شوکت عزیز ساتھ ساتھ
پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے لیے حزب اختلاف کے امیدوار جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے ہیں۔

حزب اختلاف کے اس اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

جاوید ہاشمی کے کاغذات پر حکومتی ممبران نے اعتراض کیا تھا جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے دونوں فریقین کا موقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کے رکن اسمبلی زاہد حامد نے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی اس بنا پر چیلنج کیے تھے کہ انہیں عدالت نے بغاوت کے مقدمے میں سزا سنا رکھی ہے اور وہ قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ آئین کے مطابق سزا یافتہ شخص انتخاب نہیں لڑ سکتا۔

حزب اختلاف کی جانب سے اعتزاز احسن نے حکومتی موقف مسترد کرتے ہوئے دلائل پیش کیے کہ سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے اور ان کے موکل کو ابھی نا اہل قرار نہیں دیا گیا۔

انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ جاوید ہاشمی کی بطور رکن اسمبلی تین دن قبل آپ نے خود چھٹی کی درخواست منظور کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رکن اسمبلی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب چودھری شجاعت حسین نے قائد ایوان کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے اور انہیں پیپلز پارٹی نے چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ قرضہ معاف کرانے والا رکن نا اہل ہوجاتا ہے۔

اعتزاز نے سپیکر سے کہا کہ آپ نے اس وقت فیصلہ دیا تھا کہ جب تک کوئی شخص رکن اسمبلی ہیں اس وقت تک وہ انتخاب میں حصہ لے سکتاہے۔

اعتزاز کا کہنا تھا کہ آج وہ ہی قانون ہے اور ویسی ہی صورتحال ہے لہٰذا اس قانون کا اطلاق حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔

سپیکر چودھری امیر حسین نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور جب ان سے پوچھا گیاکہ کب فیصلہ سنائیں گے تو انہوں نے کہا کہ سپیکر سے سوال نہیں پوچھتے!

کاغذات نامزدگی کی چھان بین کے وقت حکومت اور حزب اختلاف کے حامیوں سے سپیکر کا دفتر بھرا ہوا تھا جس میں سابق وزیراعظم طفراللہ جمالی اور مخدوم امیں فہیم کے علاوہ تحلیل شدہ کابینہ کے اراکین سمیت امیدواروں کے کئی حامی بھی موجود تھے۔

قومی اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے آج کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی اور جمعرات کی شام کو بلائے گئے اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں انتخاب ہوگا۔

قبل ازیں حزب اختلاف کے اتحاد ’اے آر ڈی، کے سربراہ مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی امیدوار شوکت عزیز کے مقابلے میں مخدوم جاوید ہاشمی کو امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

حزب اختلاف کے اس اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا تھا، لیکن عین وقت پر اتفاق رائے سے فیصلہ مسلم لیگ نواز کے حق میں کیا گیا۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیے صرف شوکت عزیز اور جاوید ہاشمی نے ہی کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں اور اب ’ون ٹو ون‘ مقابلہ ہوگا۔ اس صورت میں بھی عددی اکثریت کے اعتبار سے شوکت عزیز کے ہی کامیابی کے امکانات واضع نظر آتے ہیں۔

مسلم لیگ کے سیکریٹری اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حزب اختلا ف کے مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل‘ نے جاوید ہاشمی کی حمایت کا یقین دلایا ہے کیونکہ انہوں نے اپنا کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا۔

مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے بتایا کہ انہیں حمایت سے اختلاف نہیں البتہ حتمی فیصلہ جمعہ کو وہ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی کی نامزدگی سے حزب احتلاف کے دونوں بڑے اتحادوں میں تعاون کا ایک موقعہ فراہم کیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔ چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد