BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 August, 2004, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشمی کی پیشی کی درخواست مسترد

مسلم لیگی مظاہرین
جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے خلاف مسلم لیگی کارکنان کا مظاہرہ(فائل فوٹو)
پاکستان میں قومی اسمبلی کے سپیکر نے میں قائد ایوان کے انتحاب کے لیے حزبِ اختلاف کے امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کو اسمبلی میں پیش کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

یہ درخواست حزبِ اختلاف کے اتحاد اے آر ڈی نے پیش کی تھی۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے سپیکر کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایوان کے اندر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قائد ایوان کے انتخاب کے لیےحکومتی امیدوار شوکت عزیز اور جاوید ہاشمی کے درمیان ون ٹو ون مقابلہ ہو رہا ہے جس کے لیے جمعہ کی شام کو اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ کامیاب امیدوار ہفتے کو حلف اٹھائیں گے۔

مخدوم جاوید ہاشمی بغاوت کے ایک مقدمے میں قید کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو زیرِ سماعت ہے۔ پاکستان میں پہلی بار کوئی جیل سے وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب لڑ رہا ہے۔

اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ قوانین کے مطابق امیدوار کی ووٹنگ کے وقت موجودگی ضروری ہے کیوں کہ اس سے صورتحال پر خاصا فرق پڑ سکتا ہے۔

حکمران جماعت کی جانب سے رکن اسمبلی زاہد حامد نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی سزا یافتہ ہیں اور انہیں ایوان میں نہیں لایا جاسکتا۔

پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور سپیکر کے درمیاں سخت تلخ کلامی بھی ہوئی اور سپیکر نے سارجنٹ کو طلب کرلیا جس کے بعد خواجہ سعد رفیق احتجاج کرتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے۔

ابتدائی طور پر جمعرات کی صُبح اے آر ڈی کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز اور مسلم لیگ نواز نے ترتیب وار مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بھی جاوید ہاشمی کی حمایت کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں عددی اکثریت کی بنا پر شوکت عزیز کی کامیابی نقینی نظر آتی ہے۔

بدھ کے روز اٹھاون دن وزیراعظم رہنے کے بعد چودھری شجاعت حسین مستعفی ہوگئے تھے اور اب نئے قائد ایوان کا انتخاب ہو رہا ہے۔

چھبیس جون کو اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے استعفیٰ دیا تھا اور اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے انتیس جون کو نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا اور اب وہ بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد