BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 August, 2004, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابینہ کی تشکیل میں تاخیر

سابق کابینہ حلف اٹھا رہی ہے
کابینہ میں نئے چہرے سامنے آ سکتے ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز عہدے کا حلف اٹھا چکے لیکن کابینہ کی تشکیل میں ابھی غیر معمولی تاخیر دیکھنے میں آ رہی ہے۔

یہ غالباً پہلی بار ہے کہ وزیراعظم کے حلف کے تین چار روز بعد تک کابینہ نے حلف نہیں اٹھایا۔ کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کا سبب حکومتی اتحادی جماعتوں میں مفاہمت کی کمی بتایا جاتا ہے۔

پہلے کہا گیا تھا کہ منگل یا بدھ تک کابینہ کی تشکیل مکمل ہوجائے گی لیکن اب حکام کا کہنا ہے کہ کابینہ مرحلہ وار تشکیل پائے گی اور اس میں کچھ تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تین ستمبر تک کابینہ حلف اٹھا لے گی کیونکہ وزیر خارجہ کو بھارت سے جاری مذاکرات کے لیے نئی دلی جانا ہے۔

کابینہ کی تشکیل میں جہاں حکمران جماعت مسلم لیگ کا دوسری اتحادی جماعتوں سے ’نفع بخش‘ وزارتوں کے حصول پر اختلاف رائے ہے وہاں خود مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے اندر بھی اختلافات نظر آئے ہیں۔

پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے پانچ اراکین قومی اسمبلی نے وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔

وفد کے سربراہ تنویر حسین سید نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ نئی کابینہ میں اہلیت اور کارکردگی کو مد نظر رکھا جائے اور یہ ضروری نہیں کہ ان کی جماعت کے جو لوگ وزیر تھے اب دوبارہ بھی انہیں لیا جائے۔

فیصل صالح حیات اور آفتاب شیر پاؤ نے ان کی ملاقات کا نوٹس لیا اور راؤ سکندر اقبال سمیت وفد کی صورت میں پیر کے روز وزیر اعظم سے ملاقات کی اور کابینہ سازی کے لیے تبادلہ خیال کیا۔

کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی وجہ سے وزیر تجارت ہمایوں اختر سمیت بعض وزراء کو اپنے پہلے سے طے شدہ بیرون ممالک کے سرکاری دورے ملتوی کرنے پڑ رہے ہیں۔

ماضی میں چند وزراء وزیراعظم کے ہمراہ ہی حلف اٹھاتے تھے جب کہ کچھ لوگوں کو بعد میں وزیر بنایا جاتا تھا۔

شوکت عزیز کے وزیراعظم بننے کے ساتھ جہاں کسی منتخب سیاسی جماعت کی طرف سے غیر سیاسی یعنی ٹیکنوکریٹ کے وزیراعظم بننے کی روایت پڑی ہے وہاں کابینہ کی تشکیل میں تاخیر کی روایت بھی ڈالی جارہی ہے۔

ان دنوں متعدد اراکین اسمبلی وزیر بننے کی خواہش سینے میں لیے اپنا تمام تر اثر رسوخ استعمال کرنے میں لگے ہیں۔

اطلاع تو یہ بھی ہیں کہ اس موقع پر نجومیوں اور دست شناسوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس تناظر میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل معاملہ تو اس طوطے کا ہے جس کا فال آج بھی سب پر بھاری ہے۔

تاحال یہ تو معلوم نہیں کہ کون وزیر بنے گا اور کس کو فارغ کیا جائے گا البتہ اس بات پر کم و بیش اتفاق ہی نظر آتا ہے کہ شوکت عزیز کی کابینہ سابق وزراء اعظم ظفراللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین سے کافی مختلف ہوگی۔

حکومت نے ایم کیو ایم سمیت اتحادی جماعتوں کو ان کا کوٹہ بتادیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ اپنے وزیروں کے نام وہ خود بتا دیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد