BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 September, 2005, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں تھک گیا‘ ، کارروائی ملتوی

اجلاس کی کارروائی جمعرات کے روز تک ملتوی کر دی گئی۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں منگل کے روز جہاں ریٹائرڈ جرنیل مجید ملک کی میٹرک کی جعلی سند کا زور شور سے ذکر ہوا وہاں وزراء کے پارلیمانی لاجز پر قبضے اور بلدیاتی انتخابات میں ریاستی مشینری کے استعمال کے بارے میں حکومتی الزامات کی گونج بھی سنائی دی۔

ایوان میں نجی کارروائی کے دن آٹھ صفحات پر مشتمل ایک سو پانچ نکاتی ایجنڈے میں سے کارروائی صرف پندرہ نکات تک ہی محدود رہی اور سپیکر نے کہا ’بس کافی ہوگیا، میں تھک گیا ہوں‘، اور کارروائی جمعرات کے روز تک ملتوی کر دی گئی۔

چکوال کی ضلعی نظامت پر حکمران مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر مجید ملک کے اپنی جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کے ساتھ اختلافات اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے لیکن پیر کو ریٹرننگ افسر نے اس عہدے کے لیےمجید ملک کے کاغذات نامزدگی اس بنا پر رد کردیے کہ ان کی میٹرک کی ڈگری جعلی ہے۔

ایوان میں جہاں حزب اختلاف نے مجید ملک کی سند جعلی قرار دیے جانے کا معاملہ اٹھایا وہاں حکومتی رکن سردار طفیل نے بھی اس پر سخت احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجید ملک کی میٹرک کی سند جعلی تھی تو وہ جرنیل کیسے بنے؟ کیا فوج میں کوئی چیک نہیں کرتا؟۔

سردار طفیل نے کہا کہ یہ کون سا قانون ہے؟ یہ کیسا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ کوئی جھوٹے فیصلے کرنے والے جج کو پکڑنے والا ہے!۔

ایک موقع پر حکومتی رکن ایم پی بھنڈارا نے کہا کہ کئی وزراء ایسے ہیں جو سرکاری مکانوں میں بھی رہتے ہیں اور پارلیمینٹ لاجز پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنور خالد یونس نے کہا کہ کئی غیر متعلقہ لوگ بھی لاجز میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں نکالیں۔

پارلیمانی وزیر نے بھی ان کی رائے کی حمایت کی اور سپیکر سے کہا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ جس پر سپیکر نے حامی بھرلی۔

سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین

ایوان میں لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی حزب اللہ بگھیو نے پولیس افسران کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ناروا سلوک کے خلاف دو تحاریک استحقاق پیش کیں۔ جبکہ قبائلی علاقوں سے مجلس عمل کے منتخب رکن ہارون رشید نے پولٹیکل ایجنٹ، پر قاتلانہ حملے کرانے کا الزام لگاتے ہوئے تحریک پیش کی۔ سپیکر نے ان کی تحاریک ایوان کی متعلقہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی۔

کارروائی کے دوران سپیکر چودھری امیر حسین کا رویہ غیر متوقع طور پر حزب مخالف کے ساتھ خاصا دوستانہ رہا۔ انہوں نے حکومت پر سیاسی مخالفت کی بنا پر انتقامی کارروائیوں کے بارے میں نہ صرف اراکین کو بولنے کا موقع دیا بلکہ پولیس اور دیگر محکموں کے افسران کے خلاف حزب اختلاف کے اراکین کی بیشتر تحاریکِ استحقاق بھی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیں۔

اس دوران گجرات سے منتخب پیپلز پارٹی کے رکن قمر الزمان کائرہ نے ایوان میں موجود وزیراعظم شوکت عزیز کو متوجہ ہونے کی درخواست کی اور کہا کہ چار ماہ قبل انہوں نے ایوان میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی جائیداد پر قبضہ کرنے، کاروبار ختم کرنے اور جعلی مقدمات بنانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی لیکن اب تک عمل نہیں ہوا۔

چودھری قمرالزمان نے اپنے مخالف اور حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا نام لیے بنا کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔ جس پر وزیر داخلہ نے انہیں ایک بار پھر یقین دہانی کرادی لیکن سپیکر نے متعلقہ رکن کو اپنی بات مکمل کرنے دی۔

نجی کارروائی کے دن حکومت اور حزب مخالف کے اراکین قانون سازی کے لیے اپنے بل پیش کرتے ہیں اور منگل کو دونوں جانب کے اراکین نے جادو ٹونے پر پابندی سمیت مختلف قوانین میں ترامیم کے بل پیش کرنے کی اجا|زت مانگی لیکن حکومت کی مخالفت کی وجہ سے کسی کو بھی بل پیش کرنے کی اجازت نہ مل سکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد