ایم کیو ایم، کُل جماعتی کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے تنازع پر غور کے لیے حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام ایک قومی کل جماعتی کانفرنس سنیچر کو کراچی میں شروع ہوئی لیکن حزب اختلاف کی کوئی بھی سیاسی یا قوم پرست جماعت اس میں شریک نہیں ہورہی ہے۔ ایم کیو ایم کافی عرصے سے قومی خودمختاری اور بلوچستان کے موضوع پر قومی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں تھی لیکن اس کے آغاز سے پہلے ہی یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ نہ تو اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) یا مجلس عمل یا کوئی بھی قابل ذکر قوم پرست جماعت اس کانفرنس میں شریک ہوگی۔ اسی وجہ سے کانفرنس میں یاتو ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور دانشور ہیں یا پھر ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت میں شامل جماعتوں کے نمائندے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے حزب اختلاف کی عدم شرکت پر کہا کہ مستقبل میں ان جماعتوں کو بائیکاٹ کے فیصلے پر خود بھی افسوس ہوگا کیونکہ عدم شرکت محض مخالفت برائے مخالفت کی بناء پر ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ محض اس بناء پر کہ ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہے، ایک اہم قومی معاملے پر قومی کانفرنس میں عدم شرکت کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ خود مجلس عمل بھی بلوچستان حکومت میں شامل ہے۔ کانفرنس میں شریک حکمران جماعت قائداعظم مسلم لیگ کے سینیٹ میں قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ بلوچستان میں جاری تشدد کا حل سیاسی راستے سے ڈھونڈا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائنوں کو اڑانے سے بلوچستان کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کی اس کانفرنس میں بلوچستان سے وفاقی کابینہ میں شامل زبیدہ جلال جبکہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل حمید گل بھی شریک ہیں۔ | اسی بارے میں الطاف: کارکنوں کو تیاری کی ہدایت14 January, 2005 | پاکستان مرکزی حکومت کو متحدہ کی دھمکی08 January, 2006 | پاکستان ایم ایم اے، ایم کیوایم ایک ساتھ 15 January, 2006 | پاکستان باجوڑ: ایم کیو ایم بھی ہڑتال کرے گی15 January, 2006 | پاکستان سندھ حکومت میں اختلافات 16 January, 2006 | پاکستان تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ17 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||