بحران ٹلا ہے ختم نہیں ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا سندھ کا بحران ٹل گیا؟ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہفتہ کی غیریقینی صورتِ حال کے بعد معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔ مگر یہ بحران دوبارہ کب سر اٹھائے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بظاہر حالیہ بحران، جو پچھلے چند ماہ میں دوسری بار پیدا ہوا، سندھ کے وزیرِاعلٰی ارباب غلام رحیم اور حکمران جماعت کی بڑی حلیف متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان مفاہمت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ ایم کیو ایم کو شکایت ہی کہ اس کے وزرا کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ یہ شکایت انہیں وفاق سے بھی ہے۔ وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کا موقف ہے کہ پارلیمانی نظام میں اختیا رات وزیرِاعلٰی کے پاس ہو تے ہیں جو وہ اپنے وزرا کو سونپتا ہے۔ ایم کیو ایم اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ وزیرِاعلٰی ایم کیو ایم سے اتفاق نہیں کرتے اور بات صرف یہی نہیں۔ وزیرِاعلٰی ارباب غلام رحیم گفتگو میں بھی احتیاط کا دامن تھام کر نہیں رکھتے۔ ان کے مخالف ہوں یا حلیف، سب سے ایک طرح پیش آتے ہیں۔ مگر اس بار معاملات ان کے بیان سے پہلے ہی خراب ہو گئے۔ صدر جنرل پرویز مشرف جب گزشتہ ماہ کراچی میں ایک شادی میں شریک ہونے آئے تو انہوں نے بعض سرکاری کام بھی نمٹائے۔ ان میں حکمران جماعت کے لوگوں سے خطاب بھی شامل تھا۔ صدر مشرف کی ایک شدید اور شاید جائز خواہش ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں، یعنی ماضی کی طرح حکومتیں مدت مکمل کیئے بغیر بر طرف نہ کی جائیں۔ انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار اس طرح کیا کہ خطاب کے دوران کہا کہ ارباب غلام رحیم 2007 تک وزیر اعلی رہیں گے۔
یہ بیان بند کمرے کے اجلاس میں دیا گیا مگر اسے اخبارات کو بھی فراہم کر دیا گیا۔ ایم کیو ایم نے جو ان دنوں وزیرِاعلٰی سے ناراض تھی اس کا مطلب یہ لیا کہ اس طرح ارباب غلام رحیم مزید با اختیار ہو جائیں گے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ صدر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگست تک وزیرِاعلٰی ’فنکشنل‘ ہو جائیں گے، مگر یہ بیان اس سے پہلے ہی آگیا۔ ایم کیو ایم یوں تو ایک سیاسی جماعت ہے مگر اب تک اس کا انداز احتجاجی ہے۔ اس کے وزرا نے فوری طور پر استعفے پیش کردیئے اور یوں صوبہ سندھ جہاں پہلے ہی بہت مسائل ہیں مزید بے یقینی کا شکار ہو گیا۔ وزرا نے اپنے دفاتر جانا چھوڑ دیا گو صدر نے ان کے استعفے منظور نہ کرنے کی ہدایت کردی تھی اور ایم کیو ایم اور وزیرِاعلٰی کو اسلام آباد طلب کرلیا تھا۔ایم کیو ایم کا وفد اور ایم کیو ایم سے وابستہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی اسلام آباد چلے گئے مگر اس دوران ارباب غلام رحیم نے ایک تقریب میں ٹیپو سلطان کا وہ قول دہرا دیا جس میں انہوں نے شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیدڑ کی سو سالہ زندگی پر ترجیح دی تھی۔ ایم کیو ایم نے کوئی وضاحت طلب کیئے بغیر اپنے لیئے اسے ایک اشارہ سمجھا اور اس کا وفد صدر سے ملاقات کیئے بغیر واپس آگیا اور ساتھ ہی گورنر عشرت العباد بھی واپس آگئے۔ مقتدر حلقوں نے اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اسی دن گورنر سندھ کو واپس اسلام آباد طلب کر لیا گیا۔ جہاں صدر سے ان کی ملاقات دوسرے دن ہوئی، جس میں انہوں نے اخبارات کی اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم کی طرف سے معذرت بھی کی۔ صدر مشرف نے مداخلت کرکے ایم کیو ایم اور وزیرِاعلٰی کے اختلافات ختم تو کرادیئے ہیں لیکن اس سلسلے میں اندرون خانہ کیا کچھ طے ہوا ہے کوئی بتانے کو تیار نہیں ہے۔ یوں معاملہ فی الحال ٹل گیا ہے مگر کب تک؟
اصل خرابی اس نظام میں ہے جو جمہوریت کے دعویداروں نے ترتیب دیا ہے۔ سندھ میں جس طرح اقلیتی جماعت کی حکومت بنائی گئی، جس طرح ایک آزاد امیدوار علی محمد مہر کو وزیرِاعلٰی بنایا گیا پھر ہٹایا گیا اور جس طرح سندھ ڈیمو کریٹک الائینس کے ٹکٹ پر منتخب ارباب غلام رحیم کو یہ منصب سونپا گیا اور بعد میں ان سب چھوٹی بڑی جماعتوں کو مسلم لیگ میں ضم کردیا گیا، خرابی اس میں ہے۔ ایک کمزور وزیر اعلی ہمیشہ دباؤ میں رہے گا، دوسری جماعتوں کی خواہشات کے آگے جھکے گا تو پھر اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ یہ مشکلات کل بھی آ سکتی ہیں اور چند ماہ بعد بھی۔ بحران ٹلا ہے ختم نہیں ہوا۔ |
اسی بارے میں بحران: وزیراعظم کو کراچی آنا پڑا28 July, 2006 | پاکستان سندھ بحران پر کراچی مذاکرات 29 July, 2006 | پاکستان صدر کی گورنر سندھ سے ملاقات 02 August, 2006 | پاکستان حکومت، ایم کیو ایم معاملات طے03 August, 2006 | پاکستان گورنر راج لگنے کی افواہیں01 August, 2006 | پاکستان گورنر سندھ کی اسلام آباد طلبی01 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||