BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 23:39 GMT 04:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رنگ بدلتا ہے آسماں کیسے کیسے!

بگٹی
میر احمدان بگٹی کواپنے اہلہ خانے کے ساتھ نو سال پہلے علاقے سے بے دخل کر دیا گیا تھا
کیا کچھ عرصے بعد آغا شاہد اور برہمداغ بگٹی بھی جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے کسی اہم وفاقی وزارت پر فائز ہوں گے؟


ڈیرہ بگٹی کے دورے میں فوجی حکام کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی مبینہ زیادتیوں کی تفصیلات دکھائے جانے کے دوران نہ جانے کیوں یہ سوال بار بار ذہن کو پریشان کر رہا تھا۔

کراچی کے الکرم سکوائر اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان سینکڑوں کلومیٹر کا زمینی اور سماجی حالات کا ناقابل موازنہ فاصلہ حائل ہے لیکن فوجی حکام کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کے قلعے کے بارے میں پیش کی جانے والی تفصیلات چودہ برس پہلے کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف فوجی حکام کی بریفنگ سے غیرمعمولی مماثلت رکھتی تھیں۔

’ایم کیو ایم نے ریاست کے اندر ریاست قائم کی ہوئی

بگٹیوں سے برآمد کیے جانے والا اسلحہ
تھی جہاں پاکستانی آئین و قانون کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ الکرم سکوائر خوف اور دہشت پر مبنی اس ریاست کا نمایاں ترین نشان ہے، سن انیس سو بانوے میں بریگیڈیر آصف ہارون نے صحافیوں کو بتایا تھا۔

اور سن دو ہزار چھ میں کرنل فرقان الدین نے ڈیرہ بگٹی میں صحافیوں کو بتایا کہ ڈیرہ بگٹی اور آس پاس کے علاقوں میں قانون صرف نواب اکبر بگٹی کے الفاظ پر مشتمل تھا اور ان کی ان نجی جیلیں اس قانون پر عمل کراتی تھیں۔

الکرم سکوائر اور ڈیرہ بگٹی دونوں جگہ صحافیوں کو وہ مبینہ عقوبت خانے اور آلات تشدد دکھائے گئے جو فوجی حکام کے بقول ’بھگوڑے، استعمال کررہے تھے۔

 اس وقت ایم کیو ایم اور آج نواب بگٹی کے مبینہ ہتھیاروں پر معترض فوج اور انتظامیہ کو نہ اس وقت حقیقی کے ہتھیار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی آج کلپر، مسوری اور میر احمدان بگٹی کے ہتھیار نظر آرہے ہیں۔

دونوں مقامات پر صحافیوں کو بین ثبوت کے طور پر ان مورچوں اور مقامات کا دورہ کرایا گیا جہاں سے ’دہشت گرد اور بھگوڑے، فوج اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے تھے۔

اور صرف یہی نہیں، الکرم سکوائر کے بعد ڈیرہ بگٹی میں بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو آپریشن کے دوران حفاظتی دستوں کے ہاتھ آنے والا اسلحہ اور گولہ بارود بھی دکھایا گیا جو یہ ’دہشت گرد اوربھگوڑے، استعمال کررہے تھے۔

گو دونوں جگہ سے ملنے والے اسلحے کی نوعیت، مقدار اور اقسام مختلف ہوسکتی ہیں لیکن ان کی نمائش کا انداز اور تفصیلات بہت زیادہ مختلف نہیں تھیں۔

 جن لوگوں نے ایم کیو ایم پر اس قدر سنگین الزامات لگائے تھے، انہی نے آج ایم کیوایم کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا ہے۔

کراچی کی ہی مانند ڈیرہ بگٹی میں بھی ایم کیو ایم حقیقی کی مثال باآسانی تلاش کی جاسکتی ہے۔

جس طرح فوج اور رینجرز کی حفاظت میں ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما اور کارکنان کراچی کے مختلف گلی محلوں میں وارد ہوئے تھے، تقریباً اسی طرح تیرہ برس پہلے ڈیرہ بگٹی سے نکالے گئے میر احمدان رائجا بگٹی اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے قریب رشتےدار اور ساتھی بھی حکام کی زبردست حفاظت میں اپنے گھروں کو واپس لائے گئے۔

یہی منظر ڈیرہ بگٹی سے پہلے کلپراور مسوری بگٹیوں کے ذریعے سوئی میں بھی دہرایا جاچکا ہے۔

ملکی اور علاقے کی سیاست سے لاعلم لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں

اس وقت ایم کیو ایم اور آج نواب بگٹی کے مبینہ ہتھیاروں پر معترض فوج اور انتظامیہ کو نہ اس وقت حقیقی کے ہتھیار دکھائی دے رہے تھے اور نہ ہی آج کلپر، مسوری اور میر احمدان بگٹی کے ہتھیار نظر آرہے ہیں۔

اس وقت ایم کیو ایم چونکہ دشمن قرار دی گئی تھی اس لیے اسے ذرائع ابلاغ کے سامنے جناح پور بنانے کی سازش کرنے اور غیرملکی آقاؤں کی لے پالک کے طور پر پیش کی گئی تھی۔

اور چونکہ آج یہ رتبۂ بلند نواب اکبر بگٹی کو دیا جا رہا ہے، لہٰذا بیرونی قوتوں کے ایجنٹ ہونے کا قلاوہ بھی انہی کی گردن میں پڑرہا ہے۔

لیکن یہ بھی وقت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ چودہ برس پہلے جن لوگوں نے ایم کیو ایم پر اس قدر سنگین الزامات لگائے تھے، انہی نے آج ایم کیوایم کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا ہے۔

چودہ برس پہلے فوج اور حکومت کی حفاظت میں اپنے گلی محلوں کو واپس آنے والے حقیقی کے رہنما آج جیل میں اور کارکنان پھر سے دربدر ہیں۔

کیا چودہ برس پہلے کے اس ڈرامے کے نئے کردار، نواب اکبر بگٹی اور ان کے مخالفین میر احمدان اور کلپر اور مسوری بگٹی بھی ایسے ہی ڈراپ سین کا حصہ ہوں گے۔

اس سوال کا جواب وقت ہی دے گا کہ آغا شاہد اور برہمداغ بگٹی کوکب اور کن وزارتوں کے قلمدان ملتے ہیں۔

بگٹی قبیلے کے لوگبلوچستان گولہ باری
نواب اکبر بگٹی کے مطابق بیس افراد زخمی
اکبر بگٹی’بلوچ محصور ہیں‘
فوج ڈیرہ بگٹی میں گولہ باری کر رہی ہے: بگٹی
ڈیرہ بگٹی خاموش
صحافیوں کے دورے سے پہلے ڈیرہ بگٹی خاموش
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد