BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 December, 2005, 15:32 GMT 20:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی میں گولہ باری، 20 زخمی

نواب اکبر بگٹی اپنے محافظوں کے ہمراہ
نواب اکبر بگٹی اپنے محافظوں کے ہمراہ
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں آج صبح سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق لگ بھگ بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر کوہلو میں فضائی بمباری کے بعد اب گولہ باری کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی سے پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ سوا گیارہ بجے شروع ہوا اور جمعہ کی نماز کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا جو غروب آفتاب تک جا ری رہا۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ فائرنگ اور گولہ باری سے لگ بھگ بیس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ کوہلو میں بمباری کچھ نرم ہوئی ہے تو یہاں گولہ باری شروع کر دی گئی ہے ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے تو انہوں نے کہا ہے کہ یہ سچ بھی ہے اور جھوٹ بھی۔

انہوں نے کہا کہ ’جھوٹ اس لیے کہ اس مرتبہ کسی چوہدری وغیرہ سے مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ توپوں کے منہ سے ضرور ہو رہے ہیں جو بہت کھلے ہیں اور جس میں دھڑام دھڑام کی آوازیں آرہی ہیں‘۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ سردار عطاءاللہ مینگل اور سردار اختر مینگل نے بھی نواب اکبر بگٹی سے رابطہ کیا ہے ۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایف سی کی چوکی پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا ہے جس کے بعد ایف سی کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایف سی اپنے دفاع کے لیے اقدام ضرور کرے گی۔

ادھر کوہلو سے رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے کہ کوہلو میں بمباری کے بعد اب گولہ باری کی جا رہی ہے اور یہ گولہ باری لوگوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو کوہلو میں فوجی کارروائی کی تصویریں بھیجی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کارروائی میں بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر سابق صوبائی وزیر محبت خان مری اور احمدان بگٹی نے چھاونی کے علاقے میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ فوجی کارروائی صرف مشتبہ افراد کے خلاف ہو رہی ہے اس میں کوئی عام شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔

کارروائی یا منصوبہ؟
بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ
وزراء کی خاموشی
کوہلو میں فوجی آپریشن پر کوئی نہیں بولتا
جام محمد یوسفبلوچستان بٹ گیا
بلوچستان کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بٹ گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد