BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 20:30 GMT 01:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں احتجاج کا اعلان

بلوچستان میں سیاسی جلسہ(فائل فوٹو)
ہم دہشتگرد نہیں ہے نہ ہی بنیں گے: بلوچ سیاستدان(فائل فوٹو)
بلوچستان میں ممکنہ آپریشن اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف پیر کے روز سے صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے نائب صدر ساجد ترین اور ایم این اے رؤف مینگل نے کراچی پریس کلب میں جمع کی شام ایک اخباری کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں بم دھماکے کے بعد بلوچستان میں تربت اور مکران میں سرچ آپریشن کے بہانے بڑی تعداد میں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشتگرد نہیں ہے نہ ہی بنیں گے‘۔ان کے مطابق بلوچستان میں حملے بلوچوں کے خلاف کارروایوں کا رد عمل ہوسکتا ہے۔

ساجد ترین اور رؤف مینگل کے مطابق پی آئی ڈی سی بم دھماکے میں گرفتار بلوچ نہیں ہیں۔ انہیں بلوچوں کے فرضی نام دیکر بلوچ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پولیس کب سے اتنی ماہر ہوگئی ہے جو اس نے چوبیس گھنٹے میں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں بلوچ کارکن کئی ماہ سے خفیہ اداروں کی حراست میں ہیں جن پر تشدد کرکے انہیں بلوچ قیادت کے خلاف بیان دینے کو کہا جارہا ہے۔

بلوچ رہنماؤں نے کہا کہ ان سے ایسا سلوک کیا جارہا ہے جیسے وہ بھارت کے کسی صوبے کے باشندے ہوں۔ان کے مطابق پیر کے روز تحصیل سطح تک جلوس نکالے جائینگے اور دھرنے دیے جائینگے جبکہ تین دسمبر کو کراچی میں بی این پی کا مرکزی اجلاس ہو رہا ہے جس میں اہم فیصلے کیے جائینگے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد