گورنر راج لگنے کی افواہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں جاری سیاسی بحران شدید ہوگیا ہے، جس میں گورنر سندھ کو ایک دن میں دو مرتبہ اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔ صدر پرویز مشرف اور ان کی قریبی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ میں اس وقت خلیج بڑھ گئی جب ایم کیو ایم نے منگل کے روز صدر کے ساتھ مجوزہ اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ متحدہ کی ٹیم کی واپسی کے بعد صوبے سندھ کے دار الحکومت کراچی میں دن بھر گورنر راج لگنے اور اسمبلیوں کی معطل کرنے کی سرگرشت رہی۔ صدر پرویز مشرف کے پاس ہونے والے اجلاس میں شریک ہونے کے لیئے سندھ کے گورنر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم اسلام آباد پہنچ چکے تھے جن سے وزیر اعظم شوکت عزیز نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین بھی شریک تھے۔ ملاقات کے بعد گورنر عشرت العباد شام کو واپس کراچی پہنچ گئے جہاں سے ان کو رات کو واپس اسلام آباد طلب کیا گیا جہاں انہوں نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی ہے۔ مقامی ٹی وی چینلز نے حکومتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ متحدہ کے بائکاٹ پر صدر مشرف نے نہایت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کا کہنا ہے کہ سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن ’سندھ کو سیاسی یتیم خانہ نہ سمجھا جائے۔‘ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر گونر راج نافذ کیا گیا تو یہ سندھ کے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر صدر کو تنھا کرنا چاہتے ہیں اور صدر کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں۔ | اسی بارے میں متحدہ: مشرف اختلاف دور کرائیں گے29 July, 2006 | پاکستان سندھ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ24 June, 2006 | پاکستان ’عشرت العباد، الزام غلط ہے‘26 June, 2005 | پاکستان سندھ حکومت کو بحران کا سامنا22 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||