BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 August, 2006, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مفاہمتی اجلاس،ایم کیوایم کا بائیکاٹ

فاروق ستار
جنرل مشرف کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھیں گے: فاروق ستار
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے منگل کو اسلام آباد میں صدر مشرف کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی چار رکنی مذاکراتی کمیٹی کو واپس کراچی طلب کر لیا ہے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلی سندھ کے ’قابل اعتراض‘ بیان کے بعد کیا گیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے وزراء مستفعیٰ ہونے کے فیصلے پر قائم ہیں البتہ ایم کیو ایم جنرل مشرف کی پالیسوں کی اب بھی حمایتی ہے اور پارلیمنٹ میں وہ حکومتی بینچوں پر ہی بیٹھے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلی سندھ ارباب رحیم نے یہ بیان کسی کی ایما پر دیا ہے لیکن وہ اس سے زیادہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

فاروق ستار نے کہا جنرل مشرف سے ملاقات سے پہلے ان کے ایک سیاسی مشیر سے بات چیت ہوئی اور اختلافات تقریباً ختم ہو گئے تھے لیکن وزیر اعلی کے بیان نے ساری صورتحال کو خراب کر دیا۔

ارباب غلام رحیم بھی کہتے ہیں:
 شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے

ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ایک چار رکنی مذاکراتی کمیٹی، جن میں وفاقی وزیر بابر غوری کے علاوہ حیدرآباد کے ڈسٹرک ناظم کنور نوید اور سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر محمد حسین شامل تھے صدر مشرف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیئے پیر کی رات کو اسلام آباد پہنچ گئے تھے۔

بابر غوری نے کہا کہ ایم کیوایم نے وزراء کے استعفے پیش کرتے ہوئے صوبائی اور مرکزی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب رابطہ کمیٹی سندھ کی حد تک حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

ایم کیو ایم کے وزراء کے استعفی پیش کیئے جانے سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیئے صدر جنرل پرویز مشرف نے منگل کی صبح کیمپ آفس راولپنڈی میں ایم کیو ایم اور وزیرِاعلٰی سندھ کو طلب کیا تھا۔

وزیرِاعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم نے کراچی میں حکمران مسلم لیگ کی صوبائی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘۔

اسی بارے میں
سندھ حکومت بحران کا شکار
27 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد