BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ حکومت بحران کا شکار

ایم کیو ایم
ایم کیو ایم وفاقی اور سندھ حکومت میں شریک ہے
سندھ کی صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر بحران کا شکار ہوگئی ہے اور حکومت کی اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے وزراء، مشیروں اور معاونین سے لیئے گئے استعفے گورنر سندھ اور صدر پرویز مشرف کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی اور لندن میں متحدہ قیادت کے اجلاس کے دو نشستوں کے بعد استعفے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق نے عزیز آباد میں واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں ایک ٹیلی فونک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سنیچر کے روز سے متحدہ کا کوئی بھی وزیر، مشیر یا معاون دفتر نہیں جائیگا نہ ہی سرکاری مراعات لے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے اور صدر مشرف کی حمایت جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے وفاقی حکومت میں پانچ وزرا ہیں، جبکہ صوبائی حکومت میں متحدہ کی جانب سے چھ وزرا،چار مشیر اور چھ معاون ہیں جن کے پاس محکمہ داخلہ،صحت، خزانہ، منصوبہ بندی، ایکسائیز، بلدیاتی اداروں سمیت دس سے زائد محکمے ہیں۔

اس سے قبل رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر عمران فاروق نے بتایا تھا کہ استعفے لینے کا فیصلہ جمعرات کے روز تمام اراکینِ صوبائی اور قومی اسمبلی، تمام وزراء مشیروں اور معاونین کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور سینٹ کے اراکین سے استعفے لینے کی کوئی تجویز زیرِغور نہیں ہے اور نہ ہی گورنر سندھ سے استعفیٰ لیا جا رہا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا استعفے لینے کا فیصلہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو تبدیل نہ کرنے کے بیان کے ردعمل میں کیا گیا ہے تو انہوں کہا کہ’یہ فیصلہ کسی ریمارکس کے ردعمل میں نہیں کیا گیا ہے‘۔

ڈاکٹر عمران فاروق نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے تاہم اسلام آباد سے کچھ حکام نے رابطے کیئے ہیں جنہیں رابطہ کمیٹی کے فیصلے اور صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

اختلافات کی نوعیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو بھی معاملات ہیں وہ ذاتی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ عوام کے فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے ہیں۔

ان کے مطابق یہ وہ معاملات ہیں جن پر پہلے بھی اختلاف پیدا ہوئے تھے اور اس وقت بھی وہ ہی صورتحال چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ کے وزراء عوام کی خدمت نہیں کر پا رہے اور جب عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے تو پھر ان وزارتوں کا کیا فائدہ۔

انہوں نے کہا کہ’ہمارے وزراء کی سمریاں منظور نہیں ہوتیں، وزارتوں میں مداخلت کی جاتی ہے اور کوئی مشورہ نہیں لیا جاتا‘۔متحدہ کے رہنما نے کہا کہ کسی بھی بڑے فیصلے میں ایم کیوایم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

واضح رہے کہ ارباب غلام رحیم پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین کا دباؤ ہےاور کچھ ناراض وزراء اور اراکین صدر مشرف سے بھی ان کی شکایت کر چکے ہیں جس کے بعد صدر مشرف نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ آئندہ انتخابات تک نہ تو وزیر اعظم کو تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی وزیرِاعلٰی بدلے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد