بحران: وزیراعظم کو کراچی آنا پڑا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں صوبائی حکومت کے بحران کے حل کے لیئے وزیر اعظم شوکت عزیز جمعہ کے روز دو دن کے لیئے کراچی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم اور گورنر عشرت العباد سے ملاقات کرینگے۔ صدر پرویز مشرف نے سندھ کے گورنر کو متحدہ کے وزراء اور مشیروں کے استعفے منظور نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ استعفے رات کو ان کے حوالے کیئے گئے تھے۔ دوسری جانب اطلاعات اور نشریات کے وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مشرف نے گورنر سندھ کو ہدایت کی ہے کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیئے جائیں۔ درانی کے مطابق مخلوط حکومت میں اس طرح کے معاملات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن موجودہ حکومت کی روایت رہی ہے کہ اس نے اختلاف رائے کو برداشت کرتے ہوئے ہر قسم کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا ہے۔ اس سے قبل جمعرات کی شب متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے وزراء، مشیروں اور معاونین سے لیئے گئے استعفے گورنر سندھ اور صدر پرویز مشرف کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کراچی اور لندن میں متحدہ کی قیادت کے دو نشستوں پر مشتمل اجلاس کے بعد کیا گیا۔
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے وفاقی حکومت میں پانچ وزرا ہیں، جبکہ صوبائی حکومت میں متحدہ کی جانب سے چھ وزرا،چار مشیر اور چھ معاون ہیں جن کے پاس داخلہ، صحت، خزانہ، منصوبہ بندی، محصول، بلدیات اداروں سمیت دس سے زائد محکموں کا قلمدان ہے۔ اس سوال پر کہ کیا ایم کیو ایم نے اپنے ارکان سے استعفے لینے کا فیصلہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو تبدیل نہ کرنے کے بیان کے ردعمل میں کیا ہے تو انہوں کہا کہ’یہ فیصلہ کسی ریمارکس کے ردعمل میں نہیں کیا گیا ہے‘۔ متحدہ کے کنوینر نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف سے جماعت نے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم اسلام آباد سے کچھ حکام نے رابطے کیے ہیں جنہیں رابطہ کمیٹی کے فیصلے اور صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت سے اختلافات کی نوعیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ذاتی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے حوالے سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ کے وزراء عوام کی خدمت نہیں کر پا رہے اور جب عوام کے مسائل حل نہیں ہو رہے تو پھر ان وزارتوں کا کیا فائدہ۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے وزراء کی تجاویز منظور نہیں ہوتیں، وزارتوں میں مداخلت کی جاتی ہے اور کوئی مشورہ نہیں لیا جاتا‘۔متحدہ کے رہنما نے کہا کہ کسی بھی بڑے فیصلے میں ایم کیوایم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ واضح رہے کہ ارباب غلام رحیم پر اتحادی جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے اراکین کا دباؤ ہےاور کچھ ناراض وزراء اور اراکین صدر مشرف سے بھی ان کی شکایت کر چکے ہیں جس کے بعد صدر مشرف نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ آئندہ انتخابات تک نہ تو وزیر اعظم کو تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی وزیرِاعلٰی کو۔ اسلام آباد ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر برائے موصلات شمیم صدیقی نے بی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کی جانب سے چاروں استعفی صدر کے ملٹری سیکریٹری کرنل عدنان کے حوالے کر دیے۔ شمیم صدیقی نے اپنے علاوہ وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات سفان اللہ، وزیر جہاز رانی بابر غوری اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور عامر لیاقت حسین کے استعفی صدر کے دفتر میں جمع کرائے۔ ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی نے جمعرات کے روز وفاقی اور صوبائی وزارتوں سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں باجوڑ: ایم کیو ایم بھی ہڑتال کرے گی15 January, 2006 | پاکستان مرکزی حکومت کو متحدہ کی دھمکی08 January, 2006 | پاکستان صدر کی یقین دہانی، الٹی میٹم واپس09 January, 2006 | پاکستان سندھ حکومت اختلافات کا شکار27 July, 2006 | پاکستان فاروق ستار جماعت کے دفتر پہنچ گئے18 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||