BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 July, 2006, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وزیراعظم شوکت عزیز ہی رہیں گے‘

صدر مشرف اور شوکت عزیز
صدر مشرف کو شوکت عزیز پر مکمل بھروسہ ہے
پاکستان میں اس ہفتے جہاں حکومتی صفوں میں کشیدگی اور کھینچا تانی کے آثار نمایاں رہے اور صدر پرویز مشرف کو مداخلت کرنی پڑی وہاں حزب مخالف کے درمیاں بھی کھل کر اختلافات سامنے آنے کا چرچا رہا۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے تیرہ جولائی کو اپنی کابینہ کے اراکین کے اعزاز میں کھانہ دیا اور صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی مدعو کیا اور صدر نے تمام وزراء کی آرا سن کر کہا کہ آئندہ انتخابات تک وزیراعظم شوکت عزیز ہی رہیں گے اور کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

اجلاس میں جب وزیر مملکت برائے ریلوے اسحاق خاکوانی نے وزیراعظم کے خلاف شکایت کی تو صدر نے ان کی بات سننے کے بعد ان کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ’میں نے جو کہا وہ آپ سمجھ گئے ہوں گے‘۔

بارہ جولائی کو جب وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تو اس میں وزیراعظم سے ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ کے بحران میں آپ کا نام آ رہا ہے اور تمام وزرا پریشان ہیں مہربانی فرما کر وضاحت کریں۔ اس پر وزیراعظم نے عمر ایوب سے کہا اور انہوں نے جو وضاحت پیش کی تو کئی وزراء نے کہا کہ انہیں ان کی بات سمجھ میں ہی نہیں آئی کیونکہ عمر ایوب نے مالیاتی امور کے متعلق فنی زبان استعمال کی۔

کابینہ کے اجلاس میں جب فوکر طیاروں کو مسافروں کے لیئے استعمال نہ کرنے پر بات ہوئی تو ریلوے کے وزیر اسحاق خاکوانی نے پی آئی اے کے چیئرمین پر نااہلی کے الزامات لگائے اور نہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تو وزیراعظم نے خاکوانی سے کہا کہ اس وقت پی آئی اے کی کارکردگی پر بات نہیں ہورہی۔

سٹاک مارکیٹ میں حزب محالف نے چودہ ماہ میں دو مرتبہ پیدا کردہ مبینہ مصنوعی بحرانوں میں چھبیس ارب ڈالر کے ڈوبنے کا ذمہ دار وزیراعظم کو قرار دیتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے میں پسے پردہ چینی کے بحران کے سلسلے میں بھی ایک وزیر کا نام بھی آتا رہا۔

اُس وزیر کی حامی حکومتی جماعت کی ایک خاتون رکن بھی حزب مخالف کے ’ساتھ‘ ہیں۔ کئی حکومت کے حامی اراکین اسمبلی اور بعض وزراء حکومت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی افواہیں بھی اڑاتے رہے۔

ایسی صورتحال میں وزیراعظم نے تمام وزراء سے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ |ڈرائنگ رومز، میں بیٹھ کر سازشیں نہ کریں اگر کسی کو ان کے خلاف شکایت ہے تو وہ ان سے براہ راست رابطہ کریں۔ لیکن معاملہ پھر بھی نہیں سنبھلا تو وزیراعظم نے پارٹی سربراہ چودھری شجاعت حسین کو اعتماد میں لے کر صدر سے شکایت کر دی۔

نواز اور بینظیر
اے آر ڈی کی تحریک میں شروع ہی سے دراڑ پڑ گئی ہے

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ وزیراعظم اپنے وزراء کی شکایت صدر سے کریں اور انہیں مداخلت پر مجبور کریں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے اس واضح بیان کے بعد کہ جب تک وہ صدر ہیں شوکت عزیز وزیراعظم رہیں گے، حکومت میں تبدیلی کی تمام افواہوں نے دم توڑ دیا ہے اور بیشتر اراکین اور کچھ وزارء بھی خاموش ہوگئے ہیں۔ صدر نے کرپشن کے تمام الزامات سے بھی وزیراعظم کو پاک قرار دے دیا ہے ۔

یہ خبریں ذرائع کے حوالے سے بیشتر مقامی انگریزی اور اردو اخبارات میں شائع ہوئیں اور تاحال ان کی حکومت نے تردید نہیں کی۔

ادھر حزب مخالف میں بھی اختلافات کا چرچا رہا اور جیسے ہی لندن میں ’اے آر ڈی‘ کے اجلاس میں اکتیس جولائی تک حکومت کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا اعلان ہوا تو اس کی مخالفت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن کا بیان آیا کہ تحریک اعتماد ناکام ہوجائے گی اور اس طرح کے فیصلے نہیں ہونے چاہیئے۔

فضل الرحمٰن مدہبی جماعتوں کے اتحاد کے اہم رہنما ہیں لیکن اُس اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنی جماعت کے اراکین سے استعفے حاصل کرلیے اور اے آر ڈی کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا۔

حزب مخالف والے یہ دعویٰ بھی کرتے رہے کہ عدم اعتماد میں انہیں حکومت کے کئی اراکین اسمبلی نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ان کے دعوے کے ساتھ ہی حکومتی جماعت میں اختلافات کی خبریں بھی تیز ہوگئیں اور وزیراعظم نے اکتیس جولائی سے پہلے ہی اپنی صفوں میں دراڑیں پُر کردی ہیں۔

کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اب بھی اگر حزب مخالف مل کر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرے تو وہ کامیاب تو شاید نہیں ہوسکے لیکن ان کے اپنے اراکین سے انہیں زیادہ ہی ووٹ ملیں گے۔

اسی بارے میں
تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ
25 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد