فوکر طیارے صرف باربرداری تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے ملتان میں فوکر طیارے کے حادثے کے بعد ایسے تمام طیارے بدھ کے روز سے مسافروں کے لیے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں کیا گیا اور اس کا اعلان وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک نیوز بریفنگ میں کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ پیر کے روز ملتان سے لاہور روانہ ہونے کے محض پانچ منٹ بعد ایک فوکر طیارہ انجن میں آگ لگنے کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں پینتالیس مسافر اور عملے کے اراکین ہلاک ہوگئے تھے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ باوجود اس کے کہ ابھی پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے زیر استعمال فوکر طیارے اڑان کے لیے موزوں ہیں اور ان کی بیس ہزار گھنٹے تک پرواز کی صلاحیت باقی ہے۔ لیکن ان کے مطابق حکومت نے حفاظتی انتطامات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان فوکر طیاروں کو اب صرف کارگو سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ چالیس برس سے پاکستان فوکر طیارے استعمال کر رہا ہے اور اب پانچ فوکر طیارے باقی ہیں جو مال برداری کے لیے استعمال ہوں گے۔ ایک سوال پر وزیر نے کہا کہ شمالی علاقہ جات اور چترال جانے والی فوکر پروازوں کی جگہ اب فوجی مال بردار طیارے یعنی سی ون تھرٹی استعمال ہوں گے جبکہ دیگر شہروں میں ’پی آئی اے‘ بوئنگ طیارے استعمال کرے گی۔ ان کے مطابق جب تک فرانس سے ’اے ٹی آر‘ طیارے آئیں اس وقت تک فلائیٹ شیڈول میں ردو بدل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس سے ایک طیارہ مل چکا ہے اور باقی جلد فراہم کرنے کے لیے ان سے کہا جائے گا۔ تاکہ ان کے بقول اندرون ملک پروازوں کا نظام معمول پر لایا جاسکے۔ وزیر نے کابینہ میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں کہا کہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے مقابلے کے امتحان کے بعد اعلیٰ سول ملازمتوں میں خواتین کا کوٹہ پانچ سے دس فیصد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے مطابق اجلاس میں گندم کی خریداری ہدف کے مطابق ہونے پر اطمینان ظاہر کیا گیا اور آٹے کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے گندم کی تمام صوبوں کو بروقت فراہمی یقینی بنانے کی بھی وزیر اعظم نے ہدایت کی۔ وزیر نے بتایا کہ اجلاس کو ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ ڈیزل سے قدرتی گیس پر منتقل کرنے کے بارے میں پیٹرولیم کی وزارت نے بریفنگ دی اور وزیراعظم نے کہا کہ ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے گیس پر گاڑیوں کی منتقلی کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے سٹیل ملز کے متعلق سوالات کا جواب یہ کہہ کر ٹالا کہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں جو بھی عدالت کا حکم ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کم قیمت پر جلد بازی میں مبینہ طور پر حکومت نے فولاد بنانے کا ایک بڑا کارخانہ نجی شعبے کے حوالے کیا تھا اور سپریم کورٹ نے نجکاری کالعدم قرار دی تھی۔ انہوں نے سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ سال مارچ اور رواں سال مئی میں مبینہ طور پر مصنوعی بحران میں چھوٹے سرمایہ کاروں کے سولہ سو ارب روپے ڈوبنے کے ذمہ دار بروکرز کو حکومت کی جانب سے تحفظ کے الزامات رد کردیے اور کہا کہ اس کی تحقیقات ہورہی ہے۔ | اسی بارے میں پی آئی اے کا طیارہ تباہ، پنتالیس ہلاک10 July, 2006 | پاکستان پاکستان میں فوکر طیاروں کے حادثے 10 July, 2006 | پاکستان فوکر حادثہ: تحقیقات میں بیرونی مدد11 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||