فوکر حادثہ: تحقیقات میں بیرونی مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز ملتان میں تباہ ہونے والے پی آئی اے کے فوکر طیارے کا بلیک باکس اور دوسرے اہم شواہد تحقیقات کے لیئے ہالینڈ بھجوائے جا رہے ہیں۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل (ریٹائرڈ) پرویز نواز کا کہنا ہے کہ حادثات کا شکار جہازوں کے بلیک باکس اور وائس ریکارڈنگ کو تحقیقات میں صرف ایک ہی مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان اہم شواہد سے پورا فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔ وہ منگل کو ملتان میں صحافیوں سےگزشتہ روز ہونے والے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ حادثے کے شکار ہوائی جہاز کا بلیک باکس اور وائس ریکارڈنگ ’ڈی کوڈ‘ کرنے کے لیئے ہالینڈ میں فوکر طیارے بنانے والی فرم کو بھجوائے جائیں گے۔ ایئر مارشل پرویز نواز کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایسے حادثات کی تحقیقات مکمل ہونے میں ایک سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے لیکن اس واقعہ میں جائے حادثہ سے کافی اہم شواہد اکھٹے کر لیئے گئے ہیں جن کی مدد سے حادثے کی تحقیقات تین سے چار ماہ میں مکمل ہوجانے کی امید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارے نے’ٹیک آف‘ بالکل درست کیا لیکن بعد میں غالباً ’پاور لاس‘ یعنی یکدم انجن کے بےجان ہونے کے مسئلے کا شکار ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض شواہد سے لگتا ہے کہ طیارے کے انجن نے فضا ہی میں آگ پکڑ لی تھی لیکن کوئی حتمی بات کرنا ابھی ممکن نہیں۔ وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے بھی منگل کی سہ پہر جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تخریب کاری کے اندیشے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ کسی فنی خرابی کا نتیجہ ہے جس کا تعین تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ وزیر دفاع نے تسلیم کیا کہ انہوں قومی اسمبلی میں یہ بیان دیا تھا کہ فوکر طیارے اب بوڑھے ہوچکے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کا آپریشن بند کرنے کا فیصلہ پی آئی اے نے ہی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوکر طیاروں کا تجویز کردہ ’ایئر ٹائم‘ نوے ہزارگھنٹے ہوتا ہے اور پی آئی اے کے بیڑے میں موجود کسی بھی فوکر ایئر کرافٹ نے ابھی یہ حد پار نہیں کی۔ پیر کے روز ملتان میں حادثے کا شکار ہونے والے فوکر طیارے نے اطلاعات کے مطابق چوارسی ہزار گھنٹے پرواز کی ہوئی تھی۔ وزیر دفاع نے حادثے میں ہلاک ہونے افراد کے لواحقین کے لیئے وفاقی حکومت کی طرف سے چار، چار لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان، افتخار احمد چوہدری نے طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس نذیر صدیقی کے گھر واقع گلگشت کالونی ملتان آ کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوکر طیاروں کی پروازیں ختم کرانا سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور حکومت کو بہتر پالیسی وضع کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ طیارے کے حادثے کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ’یہ ایک تکنیکی مسئلہ ہے جسے متعلقہ شعبے کے ماہرین زیادہ بہتر طریقے سے دیکھ سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اگر حکومت چاہے تو ہائی کورٹ سے اس حوالے سے تحقیقات کرا سکتی ہے۔ فوکر طیارے کے حادثے میں متعدد نامور شہریوں سمیت پینتالیس افراد کی ہلاکت کے باعث آج دوسرے دن بھی ملتان میں ماحول سوگوار رہا۔ شہر کے تمام بڑے کاروباری مراکز دن بھر بند رہے جبکہ لوگ حادثے میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ہلاک شدگان کے جنازوں میں شریک ہوتے رہے۔ شہریوں کی طرف سے شام چھ بجے حادثے کا شکار تمام افراد کی مشترکہ غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔ | اسی بارے میں پی آئی اے کا طیارہ تباہ، پنتالیس ہلاک10 July, 2006 | پاکستان پاکستانی طیارے میں آگ01 March, 2005 | پاکستان پاکستان: طیارے ٹکرانے سے بچ گئے23 December, 2004 | پاکستان فضائیہ کا لڑاکا جہاز گر کر تباہ25 August, 2005 | پاکستان پاکستان کے اکتیس طیارے تباہ28 October, 2004 | پاکستان پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ16 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||