پاکستان: طیارے ٹکرانے سے بچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دو مسافر طیارے دوران پرواز ٹکرانے سے بال بال بچ گئے۔ ان میں سے ایک طیارے میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید سمیت کچھ اور سیاسی رہنماء بھی سوار تھے۔ اس واقعہ میں ایک جہاز کے پائلٹ نے اچانک اپنا طیارہ بلندی سے گرا دیا جس سے چند سیکنڈ کے فرق سے دونوں جہاز ٹکرانے بچ گئے۔ جہاز کے اچانک غوطہ کھانے سے چند مسافر زخمی ہوئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں اور اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائن کی ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی معمول کی مسافر بردار پرواز اسلام آباد سے بدھ کی شام کراچی کے لیے روانہ ہوئی ۔قریباً ایک گھنٹہ پرواز کے بعد جب یہ طیارہ رحیم یار خان کے اوپر سے چھتیس ہزار فٹ کی بلندی سےگزر رہا تھا مخالف سمت سے کراچی سے اسلام آباد جانے والے ایک دوسری ایئر لائن ایئر بلیو کا جہاز سامنے آگیا۔ دونوں جہاز ایک ہی بلندی پر تھے اور ان کے ٹکرا جانے کا خطرہ تھا لیکن پی آئی اے کے پائلٹ نے فوری طور پر جہاز کو کئی ہزار فٹ نیچے غوطہ دیا۔ اس اچانک جھٹکے سے اس میں سوار کئی مسافر اور عملہ زخمی ہوگیا۔ تاہم دونوں جہاز ٹکرانے سے بچ گئے اور بخیریت اپنی اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ کراچی جانے والی پرواز میں وفاقی وزیر اطلاعات کے علاوہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کنور محمد خالد اور سابق وفاقی وَزیر آفتاب شعبان میرانی سوار تھے۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کنور خالد یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاز کو غوطہ دینے سے کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسافر کے سر سے خون بہہ رہا تھا جبکہ ایک ایئر ہوسٹس سے اٹھا نہیں جارہا تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||