BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2003, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ

بھارتی مگ اکیس طیارے کئی حادثات کے ’اڑن تابوت‘ کہلائے جانے لگے ہیں۔
بھارتی مگ اکیس طیارے کئی حادثات کے ’اڑن تابوت‘ کہلائے جانے لگے ہیں۔

پاکستان کی فضائیہ کا ایک لڑاکا میراج طیارہ جمعرات کی صبح ایک تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا ہے تاہم فضائیہ کا زیر تربیت ہواباز بھی محفوظ رہا اور حادثہ کے نتیجے میں کوئی اور جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ کراچی میں قائم فضائیہ کے مسرور بیس سے اڑا تھا جس کے بعد حادثے کا شکار ہوا۔

ادارے نے فضائیہ کے ایک وضاحتی بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’معمول کی زیر تربیت پرواز کے دوران طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ہواباز کو جہاز سے کودنا پڑا۔‘

یہ طیارہ ملیر سے دو کلومیٹر دور ایک ویران بیرک پر گرا جس سے بیرک کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح دس بج کر پندرہ منٹ کے قریب پیش آیا۔

بعض اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد فضائیہ کے ہواباز کو ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔

اس سلسلے میں فوجی اداروں کے ایک ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جس بیرک پر یہ طیارہ گرا تھا وہاں کوئی موجد نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں بھارت کے ان مگ اکیس طیاروں کے مقابلے میں فضائی حادثات کا تناسب کافی کم ہے جو بہت زیادہ حادثات سے دو چار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان ماہرین کے مطابق ’ان حادثات میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔‘

فضائی امور کے ایک ماہر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کے پاس فرانس کے میراج طیاروں کو دنیا کا سب سے بڑا بیرہ موجود ہے جن میں میراج تین اور میراج پانچ طیارے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں مسرور بیس پر ہی ان طیاروں کو ’اپ گریڈ کرنا شروع کیا ہے۔‘

فضائی امور کے ان ماہر نے کہا ’آپ کو یاد ہوگا کہ کئی برس قبل یہیں (پی اے ایف بیس، مسرور) سے پرواز کرنے والا ایک زیر تربیت لڑاکا طیارہ شہر کی گنجان آبادی لیاقت آباد کے ایک مکان پر جاگرا تھا جس کے نتیجے میں اس گھر میں رھائش پذیر پورا خاندان ہلاک ہوگیا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ میراج تین اور پانچ ساخت کے لڑاکا طیارے سن انیس سو پینسٹھ میں بھارت سے ہونے والے جنگ کے بعد حاصل کئے تھے۔ ’زیادہ تر طیارے سیکنڈ ہینڈ تھے اور فرانس سے ہی خریدے گئے تھے۔‘

’لیکن ان کے گرنے یا کسی بھی حادثے کا شکار ہوجانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد