BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 July, 2006, 09:23 GMT 14:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں فوکر طیاروں کے حادثے

 پی آئی اے طیارہ(فائل فوٹو)
پیر کو ملتان میں پیش آنے والا فضائی حادثہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے زیر استعمال فوکر طیاروں کی تاریخ کا پانچواں بڑا حادثہ تھا۔ جس میں پینتالیس افراد ہلاک ہوئے۔

چھتیس برسوں میں پاکستان میں فوکر طیاروں کے ان پانچوں حادثات میں تا حال ایک سو اڑسٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

پی آئی اے کے اسلام آباد میں ترجمان لطیف عباسی نے بتایا کہ ملتان کے ہوائی اڈے سے لاہور جانے والی پرواز پی کے 688 اڑان کے پانچ منٹ بعدگر کر تباہ ہوگئی۔ ان کے مطابق پی آئی اے کے پاس گزشتہ چالیس برس سے سات فوکر طیارے زیرِ استعمال ہیں۔ ان طیاروں کے بارے میں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ خاصے پرانے ہوچکے ہیں اور ان کا استعمال خطرناک ہے۔

تاہم اس بارے میں پی آئی اے کے صدر دفتر کراچی کے ایک ترجمان کیپٹن حسن جعفری کا کہنا ہے کہ چالیس برس سے یہ طیارے زیر استعمال تو ہیں لیکن وہ ناکارہ نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے آئندہ برس کے وسط تک ساتوں فوکر طیارے تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے اور فرانس سے ATR طیارے خریدے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طیارہ آچکا ہے جبکہ باقی آنے والے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان میں پی آئی اے کے زیرِاستعمال فوکر طیارے کا پہلا حادثہ انیس سو ستر میں پیش آیا جس میں تیس مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔دوسرا حادثہ انیس سو بہتر میں پیش آیا اور اس میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے۔ یہ دونوں حادثے راولپنڈی / اسلام آباد میں پیش آئے۔

کیپٹن حسن جعفری نے بتایا کہ انیس سو چھیاسی میں پشاور میں ایک فوکر طیارہ گرا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق انیس سو نواسی میں گلگت میں بھی ایک فوکر طیارہ چّون مسافروں سمیت لاپتہ ہوگیا تھا جس کا آج تک کوئی نام و نشان نہیں ملا۔

واضح رہے کہ فروری سن دو ہزار تین میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ مصحف علی میر بھی فوکر طیارے کے حادثے میں سترہ افسران سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

پی آئی اے اور ایئر فورس کے فوکر طیاروں کے حادثات کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ تو حکومت نےکبھی منظر عام پر نہیں لائی لیکن اتنا بتایا جاتا ہے کہ حادثات فنی خرابی کی وجہ سے پیش آئے۔

اسی بارے میں
پاکستانی طیارے میں آگ
01 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد