سینیٹ میں بجٹ پر شدید تلخی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں نئے سال کے بجٹ پر بحث کے دوران سابق وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار اور موجودہ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب کے درمیان بجٹ کے اعداد وشمار پر سخت تلخی ہوگئی۔ بجٹ پر بحث کا آغاز اسحاق ڈار نے کیا اور انہوں نے حکومت کے پیش کردہ مختلف دستاویزات کا حوالہ دے کر کہا کہ اقتصادی جائزے میں کچھ اور اعداد وشمار ہیں اور بجٹ دستاویز میں مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی سروے میں اخراجاتِ جاریہ سات کھرب بیاسی ارب دس کروڑ روپے ظاہر کیے گئے ہیں اور اس کی بنا پر بجٹ کا خسارہ چار اعشاریہ دو فیصد بتایا گیا ہے۔ لیکن اسحاق ڈار نے مالی سال برائے چھ اور سات کے لیئے حکومت کے شائع کردہ کتاب ’تلخیص میزانیہ‘ میں اُسی مد میں حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے بنا پر کہا کہ وہ نو کھرب اٹھارہ ارب اسی کروڑ بتائے ہیں اور حکومت نے جان بوجھ کر ایک کھرب چھتیس ارب ستر کروڑ روپے کا خسارہ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب غصہ میں آگئے اور اپنی نشست پر کھڑے ہوکر اسحاق ڈار پر الزامات لگائے کہ انہوں نے اپنے دور میں اعداد و شمار کو آگے پیچھے کرکے فریب کیا تھا۔ عمر ایوب اور اسحاق ڈار دونوں با آواز بلند ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے اور ایوان میں شدید شور مچ گیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ گزشتہ برس کے بجٹ کے وقت ان کی تقریر کا ریکارڈ نکلوائیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ گزشتہ برس جب حکومت نے خسارہ تین فیصد ظاہر کیا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے کہا تھا کہ خسارہ زیادہ ہے اور بعد میں حکومت نے یہ خسارہ تین اعشاریہ تین فیصد تسلیم کیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما نے کہا کہ آج بھی وہ دعوے سے کہتے ہیں خسارہ کل پیداوار یعنی ’جی ڈی پی‘ کے چار اعشاریہ دو فیصد سے زیادہ ہے اور حکومت جان بوجھ کر کم ظاہر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صدر مشرف کے سات سالہ دور میں ان کے درآمد کردہ اقتصادی ماہرین نے خسارے میں چودہ سو چھتیس ارب کا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’فیڈرل بیورو آف سٹیٹسٹکس‘ کو خود مختار بنایا جائے اور اُسے پابند بنایا جائے کہ وہ ہر سہ ماہی کے اختتام کے فوری بعد درست اعداد وشمار بتائے تاکہ وزارت خزانہ کی اقتصادی شاخ کے غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر اجارہ داری ختم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جس شرح سے مہنگائی بڑھی ہے اس کی نسبت نئے بجٹ میں معمولی مراعات کچھ بھی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پندرہ فیصد تنخواہوں میں اضافہ بھی حکومت کی جانب سے آئندہ انتخابات کے لیئے ایک چال لگ رہی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ کم از کم پچیس فیصد تنخواہیں بڑھنی چاہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں پیش کردہ ساتوں بجٹس میں ہمیشہ مالدار اور جاگیردار طبقات اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا اور عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبادیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت کم کریں گے لیکن ملک بھر کی دس فیصد آبادی کو ان سرکاری سٹورز تک رسائی حاصل ہے اور نوے فیصد عوام کو ان تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت کے اُس دعوے کو عوام سے ایک مذاق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں ( جب سے صدر جنرل پرویز مشرف اقتدار میں ہیں) خوراک سے متعلق اشیاء کی قیمتوں کی فہرست سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتیں ایک سو بائیس فیصد بڑھی ہیں جبکہ ہول سیل انڈیکس یا فہرست کی قیمتوں میں چار سو بہتر اور حساس اشیاء کی فہرست میں قیمتوں میں پونے دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسحاق ڈار نے حکومتی اعداد وشمار پڑھتے ہوئے کہا امن امان پر اخراجات گزشتہ سال سینتالیس ارب چالیس کروڑ روپے ہوئے جو نئے بجٹ میں پچپن ارب روپوں کے قریب ہیں۔ عوام کو سماجی تحفظ کے لیے رقم پونے چودہ ارب روپوں سے کم کرکے پونے دس ارب روپوں کے قریب کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت نے ملکی اثاثے بیچ کر قرض اتارنے کا اعلان کیا لیکن چھ برس میں نجکاری سے حاصل ہونے والے دو کھرب سولہ ارب پچپن کروڑ روپے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے پر خرچ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سات برسوں میں ملکی قرضہ چودہ سو تریپن ارب روپوں سے بڑھ کر بائیس سو سڑسٹھ روپے ہوگیا ہے۔ جبکہ بیرونی قرضہ اٹھائیس ارب تیس کروڑ ڈالر سے تجاوز کرکے اکتیس ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ہوچکا ہے اور خدشہ ہے یہ قرضہ جات مزید بڑھیں گے۔ بے روزگاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات برس قبل یعنی انیس سو ننانوے میں ملک کے اندر بے روزگار افراد کی تعداد پونے چوبیس لاکھ تھی جو سات برس کے بعد ساڑھے چھتیس لاکھ ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق بے روزگاروں کی تعداد میں چون فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال میں کابینہ ڈویزن کے اخراجات مختص کردہ رقم سے ترانوے فیصد اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کے اخراجات ایک سو سینتیس فیصد بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق وزارت داخلہ نے مختص کردہ بجٹ سے سولہ کروڑ بانوے لاکھ اور وزارت خوراک نے اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا بھی سرسری ذکر کیا لیکن اس پر زیادہ تنقید نہیں کی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ جب خود حکومت تسلیم کرتی ہے کہ زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں ترقی کی شرح گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کم رہی ہے تو پھر خوشحالی آنے، بے روزگاری کے خاتمے اور غربت میں کمی کہاں سے واقع ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت کے دعوے متضاد ہیں اور وہ خود ہی اپنی نفی کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سینیٹر نثار میمن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب مخالف کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال کا بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اُس میں میادہ سے زیادہ عوام کو ریلیف دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے اقدامات اور اصلاحات کی وجہ سے ملک میں غربت اور بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے اور تمام شعبوں میں ترقی ہورہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کا ذکر تک نہیں کیا اور کئی بار صدر کو سراہا۔ سینیٹ میں بجٹ پر بحث شام کے سیشن میں بھی جاری رہی اور آئندہ چند روز چلتی رہے گی۔ سینیٹ کی فنانس کمیٹی اپنی سفارشات تیار کر رہی ہے اور چند روز تک انہیں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو بھیج دے گی۔ واضح رہے کہ پہلے سینیٹ میں نہ بجٹ پیش ہوتا تھا اور نہ ہی ان کی متعلقہ کمیٹی سفارشات بھیجتی تھی لیکن صدر مشرف کے متعارف کردہ آئینی اصلاحات کے بعد انہیں یہ اختیار حاصل ہوا ہے۔ قبل ازیں جب اجلاس صبح دس بجے کے مقررہ وقت سے سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو حزب مخالف کے ایک رہنما رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس میں تاخیر حکومتی جماعت کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی وجہ سے ہوئی اور آئندہ انہیں اپنے پارٹی اجلاس جلد بلانے چاہیئیں۔ | اسی بارے میں تین کھرب کے خسارے کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان 1300 ارب روپے سے زیادہ کا بجٹ05 June, 2006 | پاکستان بجٹ اجلاس: ایوان میں کیا ہوا؟05 June, 2006 | پاکستان پندرہ فیصد مہنگائی کے، گیارہ فیصد دفاع کے05 June, 2006 | پاکستان پاکستان کے ’بے گھر‘ ممبران اسمبلی24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||