پاکستان کے ’بے گھر‘ ممبران اسمبلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں عوام کے منتخب نمائندوں کے جمع کروائے گئے اثاثوں کے مطابق کئی وزراء اور ممبران اسمبلی کی ملکیت میں کوئی گھر یا گاڑی بھی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن میں داخل کرائے گئے اثاثوں کی تفصیلات کےمطابق اسی سےزیادہ ممبران قومی اسمبلی جن میں کئی وفاقی وزراء بھی شامل ہیں، کے پاس رہنے کو اپنا گھر نہیں ہے۔ سو سے زائد ارکان اسمبلی کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ان اثاثوں کے صحیح اور غلط ہونے کا فیصلہ اسی صورت کر سکتا ہے جب کوئی شہری داخل کیئے گئے ان اثاثوں کے درست ہونے کو چیلنج کرے۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق ممبران قومی اسمبلی اپنے، اہلیہ یا خاوند اور بچوں کے اثاثوں کے بارے میں سالانہ تفصیلات جمع کرانے پر مجبور ہیں۔
وزیر قانون وصی ظفر نے الیکشن کمشن کو بتایا ہے کہ وہ اپنا گھر اپنے بیٹوں کو تحفہ میں دے چکے ہیں۔ ان اثاثوں کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں ہے جبکہ ان کی اسلام آباد اور لاہور میں دو گھروں میں فقط شراکت داری ہے۔ کئی ممبران اسمبلی نے اپنے اثاثوں میں پلاٹ تو ظاہر کیئے ہیں مگر ان پر ابھی گھر بنانے کا شاید سوچا نہیں ہے۔ اسی طرح متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن شاہ عبدالعزیز کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے اپنے اثاثوں کے فارم کے تمام خانوں پر کراس لگا دیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کے اہم رہنما خورشید شاہ کے پاس بھی کوئی گھر نہیں ہے۔ دو سابق وزرائے اعظم چوہدری شجاعت حسین اور ظفراللہ جمالی کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔ان کے علاوہ وفاقی وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال ،وفاقی وزیر تجارت ہمایوں اختر خان جن کی ملوں اور پیپسی کے کاخانوں کی دھوم تو سب نے سنی ہے مگر ان کے پاس بھی کوئی گاڑی نہیں ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ، مخدوم فیصل صالح حیات، وفاقی وزیر صحت نصیر خان، وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق اور رضا حیات ہراج نے بھی حلفاً کہا ہے کہ ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے۔ پاکستان کے عوامی نمائندوں کےاثاثوں کی تفصیل کس قدر درست ہے یہ تو اسی وقت ہی پتہ چل سکتا ہے جب ان کے اثاثوں کی تحقیقات ہوں اور یہ تحقیقات اسی وقت ہو سکتی ہیں جب عوام میں سے کوئی ان اثاثوں کی تفصیل کو چیلنج کرے۔ | اسی بارے میں ارکان اسمبلی کو امریکہ تربیت دیگا 21 June, 2005 | پاکستان ممبران کے لیےخصوصی پلیٹس30 October, 2003 | پاکستان مشرف حکومت پر بدعنوانی کا الزام19 October, 2003 | پاکستان ’وردی مشرف کا حق ہے‘14 September, 2003 | پاکستان ’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘10 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||