’حکومت کے با اثر افراد ملوث تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کی ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی‘ کے بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد کئی اراکین نے ملک میں حالیہ چینی کے بحران کا ذمہ دار حکومت کی اہم شخصیات اور وفاقی وزراء کو قرار دیا ہے۔ کمیٹی کے ان ممبران کا کہنا ہے کہ حکومت میں شامل افراد اور دیگر نے مصنوئی بحران پیدا کر نے کے بعد غریب عوام کو مہنگی چینی بیچ کر دس ارب روپے نکالے۔ بدھ کے اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان اور سکریٹری خوراک بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیٹی میں حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے رکن سید قربان علی شاہ نے بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چودھری شجاعت حسین، وفاقی وزراء جہانگیر خان ترین، ہمایوں اختر، چیف وِپ سردار نصراللہ دریشک سمیت حکومت کے اہم عہدوں پر فائز افراد سمیت ملک کے بڑے کاروباری گروہوں کے سربراہان اس تمام کارروائی میں ملوث تھے اور انہوں نے بھی مبینہ طور پر ناجائز منافع کی خاطر چینی کا مصنوعی بحران پیدا کیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی ملک اللہ یار خان کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں حکومت اور حزب مخالف کے اتحادوں کے اراکین شامل ہیں۔ اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ جلد ایک اجلاس بلا کر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ قربان علی شاہ نے بتایا کہ بدھ کے روز کمیٹی کے اجلاس میں وزارت زراعت کے وفاقی سیکریٹری نے تسلیم کیا ہے کہ شوگر ملز مالکان کے خلاف قومی احتساب بیورو نے جو تحقیقات شروع کی اس کے احکامات ’اوپر‘ سے آئے اور اب انہوں نے ہی واپس لیے۔ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بدھ کے اجلاس میں تسلیم کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے چینی ذخیرہ کرنے کی مقررہ حد یعنی پچیس فیصد سے تین گنا زیادہ چینی ذخیرہ کرنے والے حکومت کے اہم عہدوں پر فائز افراد کی شگر ملز نے جب ذخیرہ کیا تو انہوں نے جنوری میں وزیر اعظم کو بتا دیا تھا۔ وزارت زراعت کے سیکریٹری نے بدھ کو اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال حکومت کو خبردار کیا تھا کہ گنے کی کاشت کم ہوئی ہے اور چینی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے اور حکومت کوئی انتظام کرے۔ قربان علی شاہ نے کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ حکومت نے ایسی صورتحال میں عوام کو چینی کم قیمت پر فراہم کرنے کے لیے بیرون ممالک سے خام چینی ڈیوٹی فری درآمد کرنے کی اجازت دی اور چودھری شجاعت اور وفاقی وزارء سمیت میاں نواز شریف کے خاندان اور بعض بڑے کاروباری گروہوں کی محض بیس شگر ملز نے چار لاکھ ٹن چینی منگوائی۔ سید قربان علی شاہ کے مطابق دو سو ڈالر فی ٹن کے حساب سے بِنا ڈیوٹی درآمد کردہ چینی ’ریفائن‘ کرنے کے بعد بیس روپے فی کلوگرام میں شگر ملز مالکان کو پڑی لیکن انہوں نے پینتیس سے اڑتیس روپے فی کلو فروخت کی جو عوام کو پینتالیس سے اڑتالیس روپے فی کلو ملی۔ تاہم وزیر اعظم کے مشیر نے ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان مِلوں کوچینی کی ’لینڈڈ پرائس‘ اڑتیس روپہ پڑی لہذا اس کو بیالیس روپے میں بیچنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ قمر الزمان کائرہ سمیت کمیٹی کے کئی اراکین نے اس معاملے پر حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت ان با اثر افراد پر الزامات کی تردید نہیں کر سکی ہے اور نہ ہیں ان کے دفاع میں کوئی مثبت ثبوت پیش کر سکی ہے۔ کمیٹی کے بعض اراکین نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج میں درج ہونے کے بعد شگر ملز والے ہر پندرہ روز کے بعد یہ بتانے کے پابند ہیں کہ کس مِل نے کتنا گنہ حاصل کیا اور کتنی چینی پیدا کی اور کتنی مارکیٹ میں فراہم کی۔ لیکن فروری میں جب بحران پیدا ہوا تو ملز مالکان نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ سید قربان علی شاہ کے مطابق حکومت سے ڈیوٹی فری چینی منگوانے، مقررہ حد سے زیادہ سٹاک رکھنے، مصنوعی بحران پیدا کرنے، قانون کے مطابق پندرہ روزہ معلومات ظاہر نہ کرنے اور پابندی کے باوجود نئی شوگر ملز لگانے والوں کے خلاف حکومت نے کارروائی نہ کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان میں چینی کا سخت بحران پیدا ہوگیا تھا اور پینتالیس سے اڑتالیس روپوں فی کلو گرام چینی فروخت ہورہی تھی۔ | اسی بارے میں چینی کی گرانی، نیب تحقیقات ختم13 March, 2006 | پاکستان پٹرول مہنگا تو چینی بھی مہنگی07 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||