BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ اجلاس: ایوان میں کیا ہوا؟

اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا
بجٹ اجلاس خاصی تاخیر سے شروع ہوا جس کی بظاہر کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔وزیراعظم شوکت عزیز کی آمد کے بھی قریباً بیس منٹ بعد سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں تشریف لائے جس کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا۔

اجلاس کے آغاز پر امورِ خزانہ کے وزیرِ مملکت عمر ایوب بجٹ تقریر پیش کرنے کے لیئے کھڑے ہی ہوئے تھے کہ حزبِ اختلاف کے چند اراکینِ اسمبلی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور نکتۂ اعتراض پر تقریر کرنے کی اجازت چاہی۔

یہ بجٹ اجلاس کی روایت سے ہٹ کر تھا اور ایسا محسوس ہوا کہ کچھ شور مچے گا لیکن سپیکر نے حزبِ اختلاف کی تین بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو مختصر تقریر کی اجازت دے دی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق تھا۔

قائد حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمان کا اعتراض تھا کہ بجٹ کو ایک خفیہ دستاویز ہونا چاہیئے جبکہ اس کی تفصیل سارا دن ملک کے مختلف ٹی وی چینلوں پر نشر کی جاتی رہی۔ انہوں نے اسے ایک مجرمانہ غفلت قرار دیا اور وزیرِ خزانہ کے استعفٰی کا مطالبہ کیا۔

پی پی پی کے مخدوم امین فہیم اور مسلم لیگ نواز گروپ کے چودھری نثار علی کی تقاریر کے فوراً بعد حزبِ اختلاف کے اراکین احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بجٹ اجلاس کا حصہ ہونے کے باوجود سرکاری ٹی وی پر جہاں سپیکر کی آمد کو براہِ راست دکھایا گیا وہیں اپوزیشن اراکین کی تقاریر اور واک آؤٹ کو بالکل کوریج نہیں دی گئی اور عمر ایوب کی تقریر کے آغاز کے ساتھ ہی براہِ راست نشریات کا دوبارہ آغاز ہوا۔

 موجودہ حکومت نے معیشت کو اس قدر مستحکم کر دیا ہے کہ غربت کی شرح میں خاصی کمی ہوئی ہے اور عام آدمی پہلے سے زیادہ خوشحال ہے۔
عمر ایوب

تقریر کے دوران اپوزیشن کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی اراکین پرزور طریقے سے حکومتی کارکردگی کو سراہتے رہے۔ عمر ایوب کی تقریر میں جہاں بجٹ کے تخمینے پیش کیئے گئے وہیں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال اور حکومتی کاکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے اور اس کے نتیجے میں حکومت کو درپیش آنے والے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے اس سانحے سے نمٹا کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم ہے۔

ان کا دعوٰی تھا کہ اگر یہ زلزلہ نوے کے عشرے میں آیا ہوتا تو اس وقت کی حکومتیں اور معیشت اس سے نمٹ نہیں سکتی تھیں۔ عمر ایوب نے اپنی تقریر میں وقفے وقفے سے ماضی کی حکومتوں اور وزرائےاعظم پر تنقید جاری رکھی۔

ایک موقع پر عمر ایوب نے دعوٰی کیا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو اس قدر مستحکم کر دیا ہے کہ غربت کی شرح میں خاصی کمی ہوئی ہے اور عام آدمی پہلے سے زیادہ خوشحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بیرونی قرضو ں کا کشکول توڑ دیا گیا ہے بلکہ لوگ اب کشکول رکھنے والوں کو منتخب بھی نہیں کریں گے۔

بعد ازاں وزیرِمملکت برائے خزانہ نے بجٹ کے اعدادوشمار پیش کیئے۔ ان اعداد و شمار پر اقتصادی اور معاشی ماہرین کی رائے تو سامنے آئے گی ہی لیکن توقع کے عین مطابق بجٹ تقریر کے خاتمے پر اپوزیشن نے اسے عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد