BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ میں عوام کو کیا ملا؟

بجٹ
حکومت نے ملازمین کو صرف پندرہ فیصد مہنگائی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے
قومی اسمبلی میں پیش کیئے گئے اگلے مالی سال کے بجٹ میں سولہ کروڑ آبادی کے ملک میں تقریباً ساڑھے تین سو یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے سستی دالیں فروخت کر کے مہنگائی کنٹرول کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حکومتی دعووں کے برعکس کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیئے کوئی ایسی تجویز نہیں دی گئی جس سے عوام کی اکثریت کو یہ چیزیں سستی مل سکیں۔

بجٹ میں شہریوں کی بجائے زراعت سے وابستہ لوگوں کو چند رعائتیں دی گئی ہیں۔ بجٹ تجاویز میں کم آمدن لوگوں کی بجائے صرف تنخواہ دار لوگوں کو رعائتیں دی گئی ہیں اور وہ بھی بہت ناپ تول کر۔

سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافہ توقع سے کم، کھانے کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی چند فیصد لوگوں کے لیے اور شہری متوسط طبقہ کے مفادات کے خلاف بینکوں، شہری جائیداد کے کاروبار اور سٹاک مارکیٹ پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ لیکن ٹریکٹروں پر کسٹم ڈیوٹی کا خاتمہ اور کھادوں پر سبسڈی اس بجٹ کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ملک میں دالیں، گھی، چینی اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں میں زبردست اضافہ ہوا تھا جس پر صدر جنرل پرویز مشرف بھی بار بار تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔

وفاقی حکومت نے عام لوگوں کے کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی کرنے اور سبسڈی دینے کے دعوے کیئے تھے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا اور حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز پر کم قیمت دالیں بیچنے کا اعلان کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں گزشتہ سال پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سولہ کروڑ کی آبادی کے ملک میں کل تین سو چھپن یوٹیلٹی سٹورز ہیں جن میں سے صرف ننانوے سٹوز دیہات میں واقع ہیں جہاں ملک کی ستر فیصد آبادی رہتی ہے۔ ان رعایتی سٹورز سے ملک کے صرف بارہ لاکھ افراد خریداری کرتے ہیں۔

بجٹ مزدور طبقے کے لیئے زیادہ خوش کن نہیں

وزیر مملکت نے تحصیل کی سطح پر یوٹیلٹی اسٹورز کھولنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اول تو یہ کام مکمل ہونے میں ایک سال لگ جائے گا اوراگر چند ماہ میں ایسا ہو بھی جائے تب بھی ملک کی چھ سو تحصیلوں میں سٹورز کھولنے سے دیہاتوں میں رہنے والے کروڑوں لوگ ان سے نسبتاً سستی دالیں نہیں خرید سکتے۔

دالوں کی مہنگائی پر وزیر مملکت کا یہ کہنا کہ پاکستان میں دالیں بھارت اور بنگلہ دیش کی نسبت سستی ہیں معاشی استدلال تو ہوسکتا ہے لیکن حکومت کے لیئے عوامی حمایت حاصل نہیں کرسکتا۔

چینی کی قیمت بھی کم کرنے کے لیے حکومت نے بجٹ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جو اس وقت عام مارکیٹ میں چالیس روپے کلو فروخت ہورہی ہے جبکہ یوٹیلٹی سٹورز پر ستائیس روپے کلو کے حساب سے چینی صرف چند فیصد لوگوں کو ہی دستیاب ہے۔

ملک کا خوشحال متوسط طبقہ سٹاک مارکیٹ،ریئل اسٹیٹ اور بینکوں کی خدمات پر لگائے گئے نئے ٹیکسوں سے خوش نہیں ہوگا۔ ریئل اسٹیٹ پر دو فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگایا گیا ہے اور بنکوں سے پچیس ہزار سے زیادہ رقم یکمشت نکلوانے پر ٹیکس کی شرح اعشاریہ ایک فیصد سے بڑھا کر اعشاریہ دو فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سٹاک مارکیٹ میں حصص کے کاروبار پر اعشاریہ صرف دو فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

دوسری طرف، ٹریکٹروں، ڈیری اور لائیو اسٹاک سے متعلق مشینری پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ کھادوں پر حکومت ڈھائی ارب سبسڈی دے گی۔ حکومت نے بارہ سو ماڈل ڈیری فارمز بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ماڈل سبزی منڈیاں بھی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

’ڈرپ اریگیشن‘ متعارف کرانے کے لیئے حکومت اس سال میں دس ارب روپے خرچ کرے گی جبکہ ہر یونین کونسل میں صاف پانی کے فلٹر کا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 ریئل اسٹیٹ پر دو فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگایا گیا ہے اور بنکوں سے پچیس ہزار سے زیادہ رقم یکمشت نکلوانے پر ٹیکس کی شرح اعشاریہ ایک فیصد سے بڑھا کر اعشاریہ دو فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سٹاک مارکیٹ میں حصص کے کاروبار پر اعشاریہ صرف دو فیصد کیپیٹل ویلیو ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ٹریکٹروں، ڈیری اور لائیو اسٹاک سے متعلق مشینری پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ کھادوں پر حکومت ڈھائی ارب سبسڈی دے گی

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچیس فیصد تک اضافہ متوقع تھا تاہم حکومت نے ملازمین کو صرف پندرہ فیصد مہنگائی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے اور سولہ گریڈ تک کے ملازمین کے لیئے سفر الاؤنس بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

اساتذہ کو ان کی قابلیت کی مناسبت سے پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک کا اضافی الاؤنس دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں پندرہ فیصد سے بیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ملازمت پیشہ افراد کے لیئے ایک رعایت یہ دی گئی ہے کہ قابلِ ٹیکس آمدن کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کردی گئی ہے اورانکم ٹیکس کی کم سے کم شرح ساڑھے تین فیصد سے کم کر کے اعشاریہ پچیس فیصد کردی گئی ہے۔

انعامی بانڈز کی انعامی رقوم میں اضافہ اور بچت سکیموں پر اعشاریہ پانچ فیصد سے ڈیڑھ فیصد تک اضافہ کا اعلان بھی پنشنرز اور نچلے متوسط طبقہ کے لیئے اچھی خبر ہے۔

’ کنسٹرکشن‘ کی صنعت کے فروغ کے لیئے اس سے متعلق مشینری پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے تاہم کمپیوٹر سامان پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر کے سیلز ٹیکس نافذ کر دیاگیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد