BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 June, 2006, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقتصادی سروے: غربت کم ہو گئی

ڈاکٹر سلمان شاہ
وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ
پاکستانی معیشت کے سرکاری جائزے کے مطابق ملک میں غربت کی شرح میں دس فی صد سے زائد کمی ہوئی ہے جبکہ اٹھاون لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔

اقتصادی جائزہ برائے مالی سال دو ہزار پانچ۔ دو ہزار چھ میں کہا گیا ہے کہ اس برس ملک کی شرح نمو چھ اعشاریہ چھ فی صد رہی۔

زراعت کا شعبہ جو ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس برس کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کرسکا۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے اتوار کو اسلام آباد میں بجٹ سے ایک دن قبل ملکی معیشت کے جائزے کے بارے میں پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ ملکی معیشت گزشتہ برس آنے والے زلزلے اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود مستحکم رہی۔

اقتصادی جائزے کے مطابق ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور درآمدات اور برآمدات بھی بڑھی ہیں۔

جائزے میں غربت میں کمی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں غربت کی شرح چونتیس اعشاریہ چار چھ فی صد تھی جو اب کم ہو کر تئیس اعشاریہ نو فیصد رہ گئی ہے تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ اب بھی ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ملک میں اس برس مقررہ ہدف سے زائد ٹیکس وصولی ہوئی ہے۔

بے روزگاری کے بارے میں جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس کی شرح آٹھ اعشاریہ تین فی صد سے کم ہو کر ساڑھے چھ فی صد رہ گئی ہے۔

ملک میں پانی کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی ہے جو گزشتہ پچاس سالوں میں تریپن سو کیوبک میٹر سے کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس ہو گئی ہے
سرکاری جائزہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افراط زر میں کمی ہوئی ہے۔تاہم جائزے میں کہا گیا ہے کہ گوشت، دال اور چینی کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

جائزے کے مطابق صحت کے شعبے میں اوسط ایک ہزار دس افراد کے لیئے ایک ڈاکٹر جبکہ پچیس ہزار سے زائد افراد کے لیئے ایک دندان ساز اور ایک ہزار پانچ سو سے زائد افراد کے لیئے ہسپتال میں ایک بستر ہے۔

جائزے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں مرد کی متوقع عمر چونسٹھ سال جبکہ خواتین کی چھیاسٹھ سال ہے۔اس جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک میں پانی کی دستیابی مسلسل کم ہو رہی ہے جو گزشتہ پچاس سالوں میں تریپن سو کیوبک میٹر سے کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر فی کس ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں
بھارتی بکروں کو مالٹا بخار
07 September, 2005 | پاکستان
یٹیوں کا قتل ، غربت یا شک
28 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد