BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 July, 2004, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یٹیوں کا قتل ، غربت یا شک

News image
پولیس نے ملزم کی بیوی کی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے
لاہور میں آج صبح پولیس نے جس شخص کو اپنی دو کم سن بیٹیوں کو سوتے ہوئے گلا کاٹ کر ہلاک کرنے کےالزام میں گرفتارکیا تو پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ میں قتل کےمحرک کے بارے میں متضاد باتیں سامنے آئی ہیں جن میں اس کی بیٹیوں سے نفرت، نفسیاتی مریض ہونے اور بیوی کے کردار پر شبہ جیسے محرکات شامل ہیں۔

یہ واقعہ آج لاہور میں سمن آباد کے قریب باغ گل بیگم فتح شیر روڈ پر پیش آیا جہاں تقریبا پینتیس سال عمر کا مختار نامی ملزم اور لاہور کے معروف اسکول سینٹرل ماڈل اسکول کا استاد ایک کرائے کےمکان میں رہتا تھا۔ وہ بنیادی طور پر منڈی ڈھاباں سنگھ قصبہ کے رہنے والا ہے۔ اس کی شادی اوکاڑہ کے ایک خاندان میں چندا نامی عورت ہوئی۔

ملزم نے بدھ کو فجر سے پہلے صبح ڈھائی بجے اپنی دو کم سن بیٹیوں حرا اور ثوبیہ کی شہ رگ استرے سے کاٹ دی جس سے وہ ہلاک ہوگئیں۔ ایک لڑکی کی عمر ڈھائی سال اور دوسری کی چار سال تھی۔

ملزم کی بیوی نے پولیس کو بتایا کہ وہ سب صحن میں سو رہے تھے کہ وقوعہ کے وقت پہلے ایک لڑکی کو اٹھا کر کمرے میں لے گیا اور پھر دوسری لڑکی کو جس کی چیخ سن کر وہ کمرے میں گئی جہاں اندھیرا تھا اس نے بلب جلایا تو پتا چلا کہ اس نے لڑکیوں کا گلا کاٹ دیا تھا۔

ملزم کی بیوی نے بتایا کہ وارادت کے بعد ملزم گھر سے بھاگ گیا اور اسے محلہ کے چوکیدار نے اس کے شور مچانے پر پکڑا۔

ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی بیوی نے ابتدائی طور پر بتایا کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ وہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا تھا اور انہیں برداشت نہیں کرسکا۔

تاہم ملزم کے بھائی اشرف اور ہم زلف نسیم نے ایک اور کہانی سنائی کہ ملزم نفسییاتی مریض ہے اور ایک بار ریل گاڑی کےسامنے آکر خودکشی کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔

تاہم ملزم نے کہا ہے کہ اس کی بیوی کا کردار ٹھیک نہیں تھا اور وہ اسے چھوڑنا چاہتا تھا لیکن اس کے سسرال والے دھمکیاں دیتے تھے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اس کی بیٹیوں کو فروخت کردیں گے۔ اس کا یہ بھی کہناتھا کہ وہ اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا اور اس نے کبھی بیٹے کی خواہش نہیں کی۔

تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور تفتیش کے بعد ہی پتا چل سکے گا کہ کم سن لڑکیوں کے قتل کی اصل وجہ کیا تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد