یٹیوں کا قتل ، غربت یا شک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں آج صبح پولیس نے جس شخص کو اپنی دو کم سن بیٹیوں کو سوتے ہوئے گلا کاٹ کر ہلاک کرنے کےالزام میں گرفتارکیا تو پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ میں قتل کےمحرک کے بارے میں متضاد باتیں سامنے آئی ہیں جن میں اس کی بیٹیوں سے نفرت، نفسیاتی مریض ہونے اور بیوی کے کردار پر شبہ جیسے محرکات شامل ہیں۔ یہ واقعہ آج لاہور میں سمن آباد کے قریب باغ گل بیگم فتح شیر روڈ پر پیش آیا جہاں تقریبا پینتیس سال عمر کا مختار نامی ملزم اور لاہور کے معروف اسکول سینٹرل ماڈل اسکول کا استاد ایک کرائے کےمکان میں رہتا تھا۔ وہ بنیادی طور پر منڈی ڈھاباں سنگھ قصبہ کے رہنے والا ہے۔ اس کی شادی اوکاڑہ کے ایک خاندان میں چندا نامی عورت ہوئی۔ ملزم نے بدھ کو فجر سے پہلے صبح ڈھائی بجے اپنی دو کم سن بیٹیوں حرا اور ثوبیہ کی شہ رگ استرے سے کاٹ دی جس سے وہ ہلاک ہوگئیں۔ ایک لڑکی کی عمر ڈھائی سال اور دوسری کی چار سال تھی۔ ملزم کی بیوی نے پولیس کو بتایا کہ وہ سب صحن میں سو رہے تھے کہ وقوعہ کے وقت پہلے ایک لڑکی کو اٹھا کر کمرے میں لے گیا اور پھر دوسری لڑکی کو جس کی چیخ سن کر وہ کمرے میں گئی جہاں اندھیرا تھا اس نے بلب جلایا تو پتا چلا کہ اس نے لڑکیوں کا گلا کاٹ دیا تھا۔ ملزم کی بیوی نے بتایا کہ وارادت کے بعد ملزم گھر سے بھاگ گیا اور اسے محلہ کے چوکیدار نے اس کے شور مچانے پر پکڑا۔ ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی بیوی نے ابتدائی طور پر بتایا کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ وہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتا تھا اور انہیں برداشت نہیں کرسکا۔ تاہم ملزم کے بھائی اشرف اور ہم زلف نسیم نے ایک اور کہانی سنائی کہ ملزم نفسییاتی مریض ہے اور ایک بار ریل گاڑی کےسامنے آکر خودکشی کی ناکام کوشش کرچکا ہے۔ تاہم ملزم نے کہا ہے کہ اس کی بیوی کا کردار ٹھیک نہیں تھا اور وہ اسے چھوڑنا چاہتا تھا لیکن اس کے سسرال والے دھمکیاں دیتے تھے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اس کی بیٹیوں کو فروخت کردیں گے۔ اس کا یہ بھی کہناتھا کہ وہ اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتا تھا اور اس نے کبھی بیٹے کی خواہش نہیں کی۔ تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور تفتیش کے بعد ہی پتا چل سکے گا کہ کم سن لڑکیوں کے قتل کی اصل وجہ کیا تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||