فوجی پینشن، سویلین کھاتے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے منگل کے روز تسلیم کیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کی رقم دفاعی بجٹ کی بجائے سویلین حکومت کے کھاتے سے ادا کی جا رہی ہے۔ اس بات کا اقرار وزارت مالیات کے سیکریٹری نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں اس وقت کیا جب حزب مخالف کے رکن اسمبلی سید قربان علی شاہ نے اس بارے میں ان سے وضاحت چاہی۔ سید قربان علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ فنانس سیکریٹری اس کا واضح جواب نہیں دے سکے کہ آخر حکومت ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کی رقم سویلین حکومت کے کھاتے سے ادا کیوں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سیکریٹری فنانس نے اتنا کہا کہ یہ فیصلہ سن دو ہزار ایک میں حکومت نے کیا تھا اور اس وقت یہ رقم اٹھائیس ارب روپے کے قریب تھی۔ کمیٹی کو حکام نے بتایا کہ شہری حکومت کے کھاتے سے ریٹائرڈ فوجیوں کو اداد کی جانے والی پینشن کی یہ رقم رواں سال میں پینتیس ارب ساٹھ کروڑ روپے ہو چکی ہے۔ سید قربان علی شاہ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریٹائرڈ فوجیوں کے پینشن کی رقم سویلین حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کا مقصد دفاعی بجٹ کو کم دکھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا کرنا غلط ہے اور حکومت اپنا فیصلہ واپس لے۔ حکمران مسلم لیگ کے رکن ملک اللہ یار خان کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اتحاد کے اراکین شامل ہیں اور یہ کمیٹی قومی اسمبلی سے منظور کردہ بجٹ کے درست استعمال کے بارے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آڈٹ کے بعد رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس کمیٹی کے اجلاس پہلے تو بند کمرے میں ہوتے تھے لیکن موجودہ حکومت نے صحافیوں کو بھی اجلاس کی کارروائی دیکھنے اور سننے کا موقع فراہم کر رکھا ہے۔ اجلاس میں ایک اور حزب مخالف کے رکن قمر الزمان کائرہ نے سیکریٹری فنانس سے مختلف سوالات کیئے اور انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق تمام بینکوں کے منافع کی شرح جو سن انیس سو ننانوے میں پانچ ارب تھی وہ اب بڑھ کر ترانوے ارب ہوچکی ہے لیکن کھاتہ داروں کو بینک محض ساڑھے آٹھ فیصد ’ریٹ آف ریٹرن‘ دیتی ہے۔ قمرالزمان کائرہ اور قربان علی شاہ کے مطابق انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ملک میں افراط زر کی شرح بھی ساڑھے آٹھ فیصد ہے اور ریٹ آف ریٹرن بھی اتنا ہی ہے تو حقیقی معنوں میں کھاتہ داروں کو اپنی جمع رقوم کا منافع محض صفر ہی ملتا ہے۔ جس پر کمیٹی کے کئی اراکین اور حکام نے ان سے اتفاق کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ بینکوں کے منافع کا فائدہ کھاتہ داروں کو بھی منتقل کرنے کے انتظامات کرے۔ قربان علی شاہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک اور اہم نکتہ تجارتی خسارے کا اٹھایا اور کہا کہ یہ خسارہ جو اب دس ارب ڈالر ہوچکا ہے حکومت کیسے پورا کرے گی؟ ان کے مطابق حکومتی نمائندے اس سوال کا بھی واضح جواب نہیں دے پائے۔ پیپلز پارٹی کے رکن نے مزید بتایا کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں میں سٹیٹ بینک کے نمائندے نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت نے اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں ڈالر خرید کر اپنے ذخائر بہتر کیئے تھے اور اس پر ٹیکس دہندگان کے پچیس ارب روپے ضائع کیئے گئے اور نتیجتاً ملک میں مہنگائی بڑھی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں حالیہ چینی کے بحران کی تحقیقات بند کرنے پر قومی احتساب بیورو کی جانب سے تفتیش ختم کرنے کے فیصلے پر انہیں کمیٹی نے طلب کیا ہے اور بدھ کے روز انہیں جواب دینا ہے۔ | اسی بارے میں حکومت بدعنوانوں کی سرپرست ہے‘15 April, 2006 | پاکستان برطانیہ میں پاکستانی فوج کے خلاف مظاہرہ30 April, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف ہڑتال03 May, 2006 | پاکستان ’فوج کی موجودگی میں امن ناممکن‘06 May, 2006 | پاکستان ’مشرف نے دھاندلی شروع کر دی ہے‘08 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||