حکومت بدعنوانوں کی سرپرست ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومتی اتحاد اور حب مخالف کے بیشتر اراکین قومی اسمبلی نے ملک میں مہنگائی کی وجہ بدعنوانی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانےمیں ناکام ہوگئی ہے۔ جمعہ کے روز معمول کی کارروائی روک کر پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب مخالف نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بحث کی۔ حکمران مسلم لیگ کے رکن میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ مہنگائی کی بڑی وجہ حکومتی سرپرستی میں ہونے والی بدعنوانی ہے اور حکومت بدعنوان لوگوں کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں پارلیمینٹ کے رکن بننے کے لیے ٹکٹ دیتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں دہشت گردی حکومت اور ان کی ایجنسیاں کراتی ہیں اور ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ البتہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف واحد وزیراعظم تھے جنہوں نے اُسے روکا اور وہ اس کا شکار بھی بنے۔ ان کی تقریر کے دوران حزب مخالف نے زوردار ڈیسک بھی بجائے۔ حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے رکن کنور خالد یونس نے کہا کہ پاکستان میں چینی فی کلو چالیس روپوں سے زیادہ بِک رہی ہے لیکن بھارت میں سترہ روپے فی کلو فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو چینی کی صنعت سے وابسطہ ایک مخصوص لابی جو ایوان میں بھی موجود ہے وہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار ہے اور دوسرا فوجی فاؤنڈیشن والے بھی اس میں شامل ہیں۔ ایک اور حکومتی رکن شیر اکبر خان نے کہا کہ عوام مہنگائی سے پِس رہا ہے اور حکمران خزانے بھر رہے ہیں۔ حزب مخالف کے رکن فرید پراچہ نے کہا کہ سیمینٹ چار سو روپے فی بوری بِک رہی ہے جبکہ پیٹرول سمیت تمام اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بیشتر حکومتی اور حزب مخالف کے اراکین نے حکومت پر مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا اور کہا کہ مہنگائی عوام کو تباہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز ہونے والی بحث کے دوران کسی حکومتی رکن نے مہنگائی بڑھنے کے بارے میں حکومت کا دفاع نہیں کیا۔ سپیکر نے اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کردیا اور بحث جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں حکومتی اراکین کا واک آؤٹ30 August, 2005 | پاکستان ارکانِ اسمبلی زلزلے کو بھول گئے06 December, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی: سپیکر نے صلح کرا دی13 December, 2005 | پاکستان قومی اسمبلی میں احتجاج، واک آؤٹ16 December, 2005 | پاکستان صدر کا خطاب، رولنگ محفوظ05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||