BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 December, 2005, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی میں احتجاج، واک آؤٹ

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز حزب اختلاف نے احتجاج اور واک آؤٹ کیا جبکہ حکومت ایک بار پھر کورم پورا نہ کرسکی اور ایجنڈے کے مطابق کارروائی مکمل کیے بنا سپیکر نے اجلاس غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد اور مولانا اسداللہ بھٹو نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ ہالینڈ کے ایک اخبار نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں ایک کارٹون شائع کیا ہے جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بھی اس کی مذمت کرے اور باضابطہ طور پر یہ معاملہ اٹھائے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ حکومت کو جو کرنا ہوگا وہ کرے گی لیکن مجلس عمل کی ’ڈکٹیشن‘ نہیں لے گی۔ اس دوران انہوں نے حافظ حسین احمد کے خلاف نازیبا الفاظ کہے جو سپیکر نے کارروائی سے حذف کرادیے۔

حافظ حسین احمد نے بھی جوابی جملے کسے اور جب ان کا تکرار بڑھا تو سپیکر نے مداخلت کی اور حزب اختلاف نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

واک آؤٹ کے بعد حزب اختلاف کے رکن اعجاز جکھرانی نے کورم کی نشاندہی کی اور سپیکر نے گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا۔ انہوں نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بھی بجوائیں لیکن پھر بھی کورم پورا نہ ہوسکا تو انہوں نے اجلاس کی کارروائی مجبور ہوکر غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

قبل ازیں اعتزاز احسن اور ثمینہ خالد گھرکی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ لاہور کی ’رنگ روڈ‘ کے اصل ڈیزائن میں بارہا تبدیل کی گئی ہے اور قریبی قصبوں اور چھوٹے شہروں کے درمیان سے سڑک بنائی جارہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ مافیا کے لوگ جہاں زمین خریدتے ہیں اور حکومت کو مہنگے داموں بیچتے ہیں وہاں تک سڑک موڑ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس وجہ سے لوگ خاصے پریشان ہیں۔

حکمران جماعت کے بعض اراکین نے بھی تائید کی اور کہا کہ احتساب بیورو سے اس کی تحقیقات کرائی جائے جس پر حکومت کی جانب سے کسی نے جواب نہیں دیا۔ البتہ مواصلات کے وزیر نے بیان دیا کہ یہ سڑک پنجاب کی صوبائی حکومت بنوا رہی ہے اس لیے وفاقی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا یہ تیسواں سیشن تھا جو ختم ہوگیا۔ اس پورے سیشن کے دوران حکومت یا حزب اختلاف کے کسی رکن نے زلزلے سے ہونے والی تباہی اور متاثرین کے مسائل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد