BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 October, 2005, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جیتا وہی ہے جو پیسے والا ہے‘

 اسمبلی ہال
’لوگ لاکھوں لگا کر آتے ہیں کروڑوں واپس لے کر جاتے ہیں‘
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز حکومت اور حزب اختلاف کے بعض اراکین نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بے تحاشہ دولت کے استعمال کو شرمناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے روکا جائے۔

دونوں جانب کے اراکین نے حزب اختلاف کی تحریک التویٰ پر حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بارے میں بحث کے دوران مطالبہ کیا کہ سیاست میں دولت کے بے دریغ استعمال کی روایت اگر جاری رہی تو کل کوئی غریب سیاسی کارکن آگے نہیں آ سکے گا۔

حکمران مسلم لیگ کے رکن اسمبلی فاروق امجد نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں شرمناک بات یہ ہوئی ہے کہ حکومت کے حامی ہوں یا حزب اختلاف، ان میں سے زیادہ تر وہ ہی لوگ جیتے ہیں جو پیسے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں زیادہ پریشان کن مسئلہ دھاندلی سے زیادہ پراپرٹی ڈیلروں کے سیاست میں آنے کا ہے جو کل پورا ضلع بیچ دیں گے۔ اس پر دونوں جانب کے اراکین نے بھرپور ڈیسک بجاکر انہیں داد دی۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی شیرمحمد بلوچ نے ان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ لاکھوں لگا کر آتے ہیں وہ کروڑوں واپس لے کر جاتے ہیں اور نتیجے میں عوام کو کچھ نہیں ملتا۔

مجید ملک کے قریبی رشتہ دار اور ماحولیات کے وزیر میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال نے حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے انہیں ووٹ دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب نتائج کو تسلیم کرلینا چاہیے۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ آئندہ انتخابات سے قبل آزاد الیکشن کمیشن قائم کرنے سمیت ایسے اقدامات کیے جانے چاہیے تاکہ کوئی بھی جماعت دھاندلی کا الزام نہ لگا پائے۔

حزب اختلاف کی تحریک التویٰ پر بحث کے دوران جہاں حافظ حسین احمد، عائشہ منور اور شیر محمد بلوچ سمیت حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت پر بلدیاتی انتحابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے وہاں صوبہ سرحد سے حکومت کے حامی رکن اسمبلی شیر اکبر خان نے بھی حکومت پر ایسے الزامات عائد کیے۔

حکومت کی مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں بحث کے دوران خلاف توقع حزب اختلاف کا رویہ خاصا نرم رہا۔ عام طور پر اپوزیشن معمولی باتوں پر واک آؤٹ کر جاتی ہے لیکن جمعہ کے روز ایسا کچھ نہیں ہوا اور سپیکر نے کارروائی پیر کی صبح تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد