حکومتی امیدواروں کی شکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی پنجاب کے تیرہ میں سے پانچ اضلاع میں وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کے حمایت یافتہ امیدواروں کوضلع ناظم کے انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق سب سے بڑا اپ سیٹ ڈیرہ غازی خان میں ہوا ہے جہاں سابق صدر سردار فاروق لغاری کے بیٹےسابق ضلع ناظم جمال لغاری اے آر ڈی کے حمایت یافتہ امیدوار مقصود لغاری سے ہار گئے ہیں۔ مقصود لغاری سابق صدر کے کزن ہیں اور اس سے قبل وفاقی و صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ مظفر گڑھ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عبدالقیوم جتوئی حکومتی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ بیگم تہمینہ دستی کو شکست دے کر ضلع ناظم منتخب ہوگئے ہیں۔ تہمینہ دستی پورے پنجاب میں ضلع ناظم کے عہدے کے لیے واحد خاتون امیدوار تھیں۔ تاہم مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی سےخاتون امیدوار ماریہ بتول بخاری تحصیل ناظم کے طور پر منتخب ہوگئی ہیں۔ تہمینہ دستی سابق صوبائی وزیر امجد حمید دستی کی صاحبزادی ہیں جبکہ ماریہ بتول کے والد عبداللہ شاہ بخاری بھی پرانے سیاستدان ہیں۔ماریہ بتول کے ایک بھائی ہارون سلطان صوبائی وزیر جبکہ دوسرے بھائی باسط سلطان رکن قومی اسمبلی ہیں۔ حکمراں پارٹی کو ایک اور صدمہ پاکپتن میں اٹھانا پڑا ہے جہاں وزیر اعلیٰ کے نامزد امیدوار امجد جوئیہ اے آر ڈی اور حکومتی مسلم لیگ کے ناراض عناصر کے مشترکہ امیدوار راؤ نسیم ہاشم سے ہار گئے ہیں۔پاکپتن کی دونوں تحصیلوں میں بھی حکومتی پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہاڑی میں وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ نے سابق ضلع ناظم ممتاز خان کھچی کو نامزد کیا تھا لیکن ان کے مقابلے میں حکومتی پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر شاہد مہدی نسیم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جیتنے والے امیدوار کو اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی بیگم تہمینہ دولتانہ نے بھی ان کی حمایت کی لیکن ان کے شوہر زاہد انور واہلہ وہاڑی تحصیل نظامت کی انتخابی جنگ میں حکومتی مسلم لیگ کے ثاقب خورشید سے مات کھا گئے ہیں۔ سائیوال میں سابق ضلع ناظم رائے حسن نواز دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کا مقابلہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار نوید اسلم لودھی سے تھا جو کہ صوبائی وزیر زراعت ارشد خان لودھی کے داماد ہیں۔انتخابات سے چند روز قبل چوہدری پرویز الہیٰ نے سائیوال کا دورہ کیا اور لوگوں کو ترغیب دی کہ اگر وہ ترقیاتی وسائل چاہتے ہیں تو ان کے امیدوار کو کامیاب کریں۔ تاہم جنوبی پنجاب کے باقی آٹھ اضلاع میں وزیر اعلیٰ کے نامزد کردہ حکومتی پارٹی کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ ملتان میں صنعتکار میاں فیصل مختار، خانیوال میں احمد یار ہراج، لودھراں میں عبدالرحمنٰ کانجو، راجن پور میں رضا دریشک، لیہ میں غلام حیدر تھند، بہاولپور میں طارق بشیر چیمہ، بہاولنگر میں ممتاز متیانہ اور رحیم یار خان میں رفیق حیدر لغاری کامیاب ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||