کراچی متحدہ، لاہور حکومتی حامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کے حامل کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ جس کے بعد حق پرست پینل کے سٹی ناظم کے امیدوار مصطفیٰ کمال کامیابی کے نزدیک پہنچ چکے ہیں۔ جب کہ لاہور کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکومت کے حمایت یافتہ امیدوار عامر محمود دوسری بار بطور ضلعی ناظم منتخب ہوگئے ہیں اس کے علاوہ لاہورکے نو ٹاؤن میں سےصرف ایک پر اپوزیشن کے امیدوار بطور ٹاؤن ناظم کامیاب ہوئے ہیں۔ لاہور کے صرف شالیمار ٹاؤن کے نتائج ابھی واضح نہیں ہوئے۔ کراچی شہر کے اٹھارہ ٹاؤنز کے غیرسرکاری نتائج کی تفصیلات کے مطابق چودہ ٹاؤنز میں حق پرست امیدواروں، دو پر عوام دوست پینل، ایک ٹاؤن پر خوشحال پاکستان کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ لیاری میں پی پی پی کے منحرف امیدوار ناظم کے طور پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ الخدمت پینل ایک بھی ٹاؤن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ بلدیہ میں حق پرست امیدوار کامران اختر، گلبرگ میں حق پرست محمد ماوت حیات، کورنگی میں عارف خان، لانڈھی میں اسماعیل قریشی، لیاقت آباد میں حق پرست اسامہ قادری، صدر ٹاؤن سے حق پرست دلاور خان، گلشن اقبال سے حق پرست واسع جلیل، اورنگی سے حق پرست عبدالحق، نیو کراچی سے حق پرست محمد حنیف صورتی، ملیر میں حق پرست انصار احمد، نارتھ ناظم آباد سے ممتاز حنیف، جمشید ٹاؤن سے کرنل ریٹائر طاہر مشہدی، شاھ فیصل سے محمد عمران پرویز اور سائیٹ سے اظہار احمد نے کامیابی حاصل کی ہے۔ بن قاسم ٹاؤن پر عوام دوست امیدوار عمر جت، گڈاپ میں بھی عوام دوست غلام مرتضیٰ، کیماڑی میں خوشحال پاکستان کے ہمایوں سعید خان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کیماڑی میں دو حق پرست ووٹروں کے ووٹ سیل کیے گئے تھے۔ جو عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد گنے جائیں گے۔ پی پی پی کے جیالوں کا گڑھ تصور کیے جانے والے لیاری میں عوام دوست امیدوار ہارگیا ہے۔ جبکہ منحرف امیدوارں ملک فیاض نے کامیابی حاصل کی ہے۔ الخدمت پینل نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک بھی ٹاؤن میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ جبکہ مصطفیٰ کمال کو واضح برتری حاصل ہے۔ پنجاب سے آنے والے اب تک کے ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکومت کے حمایت یافتہ ضلعی ،تحصیل اور ٹاؤن ناظمین نسبتًا زیادہ تعداد میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن کہیں کہیں اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ امیدوار بھی کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان انتخابات میں مقامی سطح کی سیاست اور برادریوں کے اثر و رسوخ بھی نتائج پر اثرانداز ہوئے ہیں۔ لاہور میں اب تک نو میں سے تین ٹاؤن میں حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار جیتے ہیں جبکہ ایک واہگہ ٹاؤن میں پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار نے کامیابی حاصل کی ہے۔ راولپنڈی میں بلدیاتی انتخابات میں خاصی گہما گہمی دیکھنے میں آئی۔ امیدواروں کے ناموں اور تصاویر والے بینر اور جھنڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے راولپنڈی کے ناظم کے لیے اصل مقابلہ سابق ناظم طارق محمود کیانی اور سابقہ نائب ناظم اور حکمران مسلم لیگ کے حمایت یافتہ راجہ جاوید اخلاص کے درمیان ہوا۔ راولپنڈی کے سب سے بڑے ٹاؤن راول ٹاؤن میں بھی بڑی دلچسپ صورتحال رہی جہاں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اور مسلم لیگ نواز کے جمہوریت نواز گروپ اور جماعت اسلامی کے الخدمت گروپ کے حمایت یافتہ امیدوار اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی سردار نسیم کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اسی ٹاؤن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنا حمایت یافتہ امیدوار کھڑا کیا۔ وہاڑی میں حکومت کے نامزد امیدوار ضلع ناظم محمد ممتاز خاں کھچی کو مسلم لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے امیدوار سید شاہد مہدی نسیم کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ مہدی نسیم کو اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کی حمایت حاصل تھی۔ شاہد مہدی نسیم غیر سرکاری نتائج کے مطابق 124 ووٹوں کی سبقت سے جیت گئے ہیں۔ بورے والا تحصیل ناظم کی نشست پر حکومت کے نامزد امیدوار سابق صوبائی وزیر چوہدری نذیر احمد آرائیں سابق تحصیل ناظم چوہدری عثمان احمد وڑائچ سے 19 ووٹوں کے مارجن سے شکست کھا گئے ہیں۔ جبکہ تحصیل وہاڑی میں حکومتی نامزد امیدوار سابق تحصیل ناظم میاں ثاقب خورشید دوبارہ کامیاب ہوگئے ہیں انہوں نے اے آر ڈی کے نامزد امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کی سینئرنائب صدر تہمینہ دولتانہ کے شوہر زاہد انور واہلہ کو 34 ووٹوں سے شکست دے دی ہے ۔ تحصیل میلسی میں سابق تحصیل ناظم عاصم سعید خاں منہیس نے جو سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سعید احمد خاں منہیس کے صاحبزادے ہیں حکومتی امیدوار محمد ممتاز خاں کھچی کے بھتیجے جہانزیب خاں کھچی کو صرف ایک ووٹ کے فرق سے شکست دی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||