پنجاب: 3 ضلعوں میں رینجرز تعینات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ اکتوبر کو تحصیل اور ضلع کے ناظموں کے انتخابات کے موقع پر پنجاب کے تین ضلعوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے رینجرز تعینات کردی گئی ہے جبکہ حکمران جماعت کے ایک رکن صوبائی اسمبلی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پیر کے روز لاہور میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں پنجاب کے چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبہ کے پینتیس میں سے تین ضلعوں جھنگ، خوشاب اور قصور میں رینجرز بلا لی گئی ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر اور جگہوں پر بھی ایسا کیاجاسکتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ پولنگ کے روز کے بجائے ابھی سے صوبہ میں پولیس کی گشت شروع کروادیں۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب وسیم حسن افضل نے بتایا کہ صوبہ میں اسلحہ لے کر چلنے اور جلسے جلوس کرنے پر پابندی ہے جو چھ اکتوبر تک رہے گی۔ ہوم سیکرٹری نے یہ بھی کہا کہ ہفتہ کے روز قصور میں اسسٹنٹ الیکشن کمشنر محمد عبداللہ کی پٹائی کرنے کے الزام میں پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری ملک محمد احمد خان اور ناظم کے امیدوار اور ان کے کزن ملک اعجاز خان اور ان کے سات ساتھیوں کو حراست میں لےلیا ہے۔ ان پر انسداد دہشت گردی کی دفعہ چھ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم بی بی سی کے نمائندے نے جب قصور میں ڈی ایس پی پولیس سٹی ظہیر باجوہ سے پوچھا توانہوں نے کہا کہ ایسی کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔ قصور پولیس کے تھانہ مصطفے آباد اور بی ڈویژن نے بھی اس گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی۔ قصور کی بی ڈویژن پولیس، جس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا تھا، کے اہلکار نے کہا کہ اگر کوئی گرفتاری ہوئی ہے تو وہ صرف اعلی افسروں کے علم میں ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||