اوکاڑہ: ووٹوں نے فیصلہ کر دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر اوکاڑہ سے انجمن مزارعین پاکستان کے پندرہ عہدیدار دو یونین کونسلوں سے ناظم اور کونسلر منتخب ہوگئے ہیں۔ اگرچہ ان کی جیت کا حتمی نوٹیفیکشن ابھی جاری نہیں ہوا لیکن ان کے حامی اس جیت پر جشن منا رہے ہیں۔ جن یونین کونسلوں نے انجمن مزارعین کے حمایت یافتہ لوگوں نے کامیابی حاصل کی ہے وہ اوکاڑہ کے ان علاقوں میں واقع ہیں جہاں ملڑی فارم ہیں اور فوج مقامی انتظامیہ اور مقامی کسانوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان علاقوں میں کئی بار کسانوں اور انتظامیہ کی جھڑپیں ہوچکی ہیں اور ایک سے زائد افراد ہلاک بھی ہوئے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق اوکاڑہ میں ملڑی فارم کے تحت آنے والے سات چکوک پر مشتمل یونین کونسل نمبر دس سے انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار سمیت نو عہدیدار کامیاب ہوئے جبکہ یونین کونسل پینتیس سے انجمن مزارعین رینالہ کے صدر ندیم اشرف سمیت چھ عہدیدار کامیاب ہوئے ہیں۔ مہر عبدالستار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ان کی جیت سے مزارعین کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوا ہے اور فوج کا یہ موقف غلط ثابت ہوا کہ صرف چند افراد ٹھیکے داری نظام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز کی کل ارآضی سترہ ہزار ایکڑ ہے جس میں سے پانچ ہزار ایکڑ خود فوج کاشت کرتی ہے اور باقی زمین پر کسان کاشتکاری کرتے ہیں۔ فوج اور مزارعین کے درمیان تنازعہ کاشتکاری کے معاہدہ کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے جس پر نوے سال سے کاشتکاری کرنے والے مزارعین کو کہا جارہا ہے کہ انہیں اب ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنا ہوگا جس کی کاشتکاروں کی ایک تعداد مخالفت کرتی ہے۔ پاکستان فوج کا موقف رہا ہے کہ زمین ان کی ملکیت ہے اور اوکاڑہ ملٹری فارمز کے بیشتر کسانوں نے اپنی مرضی سے ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنا شروع کردیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق کچھ کسانوں کو غیر سرکاری تنظیمیں ورغلا کر فوج کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||